رسائی کے لنکس

طرززندگی میں تبدیلی سے ذیا بیطس پر قابو پانا ممکن ہے


طرززندگی میں تبدیلی سے ذیا بیطس پر قابو پانا ممکن ہے

طرززندگی میں تبدیلی سے ذیا بیطس پر قابو پانا ممکن ہے

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین دہائیوں میں دنیا بھر میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد دوگنی ہو کر35 کروڑ کے قریب ہو چکی ہے ۔اور اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک وجہ آبادی میں عمررسیدہ افراد کی بلند شرح اور دنیا بھر میں موٹاپے کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔

ذیابیطس ایک عالمی مسئلہ ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت ہر دس میں سے ایک شخص ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے۔ گڈرز ڈینی امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن کے ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ سے منسلک ہیں۔ان کا کہناہے کہ ہماری تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ذیابیطس سے اب صرف امیر ممالک ہی متاثر نہیں۔

اس تحقیق میں ماہرین نے تیس سال میں دو سو سے زائد ممالک کے تقریبا تیس لاکھ افراد کے خون میں ذیابیطس کی مقدار نوٹ کی۔ زیادہ تر مریض ذیابیطس کی Type 2 میں مبتلا تھے جس کی وجہ بڑھتی عمر، موٹاپا اور ورزش نہ کرنا ہے۔
اس مرض میں مبتلا اپنے خون میں ذیابیطس کی شرح پر قابو نہیں رکھ سکتے جس کی وجہ سے ان میں امراض ِ قلب، فالج ، معذوری یا وقت سے پہلے موت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
جبکہ اب ایسے ممالک بھی آبادی میں مسلسل اضافے کے باعث ذیابیطس کے مرض کا شکار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جہاں اس سے پہلے ذیابیطس کی شرح زیادہ نہیں تھی۔

چونکہ ذیابیطس کے مریض کو لمبی مدت کے لیے طبی مدد درکار ہوتی ہے اسی لیے ذیابیطس کا علاج مہنگا ہے۔ اس میں صرف خون میں ذیابیطس کی مقدار کو ہی قابو میں نہیں رکھنا ہوتا بلکہ بعض اوقات ذیابیطس کے باعث پیدا ہونے والی دیگر پیچیدگیوں کا علاج کرنا بھی شامل ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ ِ صحت کا کہنا ہے کہ ذیابیطس میں مبتلا ستر فیصد لوگ کم آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ اس مرض سے بچائو کے خلاف ادویات خریدنے کی سکت نہیں رکھتے اور ان کی حکومتیں بھی صحت ِ عامہ کے لیے زیادہ بجٹ مختص نہیں کر پاتیں۔

ذیابیطس سے متعلق اس تحقیق کے مطابق دنیا کو اس بیماری کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ طبی ماہرین اور ڈاکٹر ز بھی اس رائے سے متفق ہیں۔

ڈاکٹر بیٹل ہاٹی پوٹو کہتی ہیں کہ کھانے پینے کی صحتمندانہ عادات اپنا کر اور باقاعدگی سے ورزش کرکے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کی شرح میں کمی لانا ممکن ہے۔

اس تحقیق کے ماہرین کے نزدیک ذیابیطس دنیا کے لیے ایک ایسا خطرہ ہے جس کے خلاف صحت ِ عامہ کے حوالے سے شعور اجاگر کرکے ہی اس کی بڑھتی شرح پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG