رسائی کے لنکس

ڈائٹ سوڈا اسٹروک کا خطرہ 50 فی صد بڑھا دیتاہے

  • جمیل اختر

اسٹروک کا ایک مریض

اسٹروک کا ایک مریض

حالیہ برسوں میں ڈائٹ سوڈے کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہواہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بغیر چینی والے سوڈے کے استعمال سے وہ اپنے وزن پر قابو رکھنے کے ساتھ ذیابیطس کے خطرے سے بھی بچ سکتے ہیں۔ لیکن ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے ان کی یہ خوش فہمی دور کرتے ہوئے کہا ہے ہےکہ ڈائٹ سوڈا اسٹروک کے حملے میں 50 فی صد تک اضافہ کردیتا ہے۔

امریکن اسٹروک ایسوسی ایشن کے تحت لاس اینجلس میں منقعد ہونے والی ایک بین الاقوامی اسٹروک کانفرنس میں مطالعاتی جائزے کے نتائج پیش کرتے ہوئے ماہرین نے بتایا کہ انہوں نے اپنی تحقیق میں نوبرس تک 2564 رضاکاروں کو زیر مطالعہ رکھا۔

اس مطالعاتی جائزے کاآغاز 2003ء میں کیا گیا۔ نوسال کے دوران ان میں سے 559 افراد شریانوں کے امراض میں مبتلا ہوئے۔ شریانوں کا بیماری کا نتیجہ اکثر اوقات اسٹروک یا دل پر حملے کی صورت میں نکلتا ہے۔ماہرین کا کہناہے کہ ان میں سے جو افراد روزانہ ڈائٹ استعمال کررہے تھے، ان میں اسٹروک کے حملے کا خطرہ 60 فی صد تک زیادہ تھا۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اسٹروک کے خطرے کا تعلق سوڈے کو مصنوعی طورپر میٹھا کرنے والے کس مرکب سےہے اور یہ کہ آیا اس سلسلے میں سوڈا پینے والوں کے زندگی گذارنے کا انداز بھی کو ئی کردار ادا کرتا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہناہے کہ ڈائٹ سوڈے کا استعمال محفوظ نہیں ہے ، خاص طورپر اس صورت میں جب آپ دن بھر کے پانی کی زیادہ تر ضروریات اس کے ذریعے پوری کرنا چاہیں۔ کیونکہ اس صورت میں آپ بڑی مقدار میں فارسفورک ایسڈ، مصنوعی رنگ ، مصنوعی خوشبو اور ذائقہ اور میٹھے کا احساس دلانے والے کچھ کیمیائی مرکب استعمال کررہے ہوتے ہیں۔

ڈائٹ سوڈا ، عام سوڈا کا بدل بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ چینی سے حاصل ہونے والے حراروں کے بدلے میں آپ ایسے کیمیائی مرکب استعمال کررہے ہوتے ہیں، جن کے صحت پر اثرات کے حوالے سے سوالیہ نشان موجود ہیں۔

انسان اپنی ارتقا سے اب تک ، لاکھوں برس کے اس سفر میں اپنی پیاس بجھانے کے لیے پانی استعمال کرتا رہاہے۔ مگرسائنسی ترقی کے نتیجے میں آنے والی معاشرتی تبدیلیوں نے اسے پیاس بجھانے کے لیے پانی کے کئی متبادل فراہم کردیے ، جن میں سے ایک سوڈا ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مشروب ہے۔ اکثر متمول گھرانوں اور ترقی یافتہ ملکوں میں پانی کی بجائے سوڈے کو ترجیج دی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہناہے کہ ڈائٹ سوڈے کا استعمال کچھ ایسا ہی ہے جیسے گوشت کا استعمال ترک کرنے والے بعض لوگ مصنوعی گوشت کھانے لگتے ہیں۔ مصنوعی گوشت زیادہ تر سویا بین سے بنایا جاتا ہے اور اسے گوشت کا ذائقہ دینے کے لیے اس میں بڑی مقدار میں نمک، چینی، چکنائی اور کیمیکلز شامل کردیے جاتے ہیں۔ جس سے وہ صحت کے لیے اصل گوشت کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ بن جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ اصلی سوڈے اور ڈائٹ سوڈے یا اصلی اور نقلی گوشت کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ نشے سے ملتی جلتی ہماری اس عادت کا ہے جس کے زیر اثر ہم ان چیزوں کے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ اور جب معالج اس کے استعمال سے روک دیتے ہیں تو ہم ان کی نقل تلاش کرنے لگتے ہیں۔

ماہرین کا کہناہے کہ ڈائٹ سوڈے کو استعمال کرنے والے زیادہ تر ایسے افراد ہوتے ہیں، جنہیں طبی وجوہ کی بنا پر ڈاکٹر چینی کے استعمال سے روک دیتے ہیں۔ یعنی یا تو ان کا وزن زیادہ ہوتا ہے یا پھر انہیں ذیابیطس کا خطرہ ہوتاہے۔ گویا خطرے کی وجوہ ان میں پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔ ڈائٹ کا استعمال ان کے خطرے کو کم نہیں کرتا، بلکہ کیمیکلز کی موجودگی اسٹروک کے امکان کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

ماہرین کامشورہ ہے کہ ڈائٹ سوڈے کا بہترین بدل بغیر چینی کی چائے، بالخصوص سبزچائے ہے۔چائے کے قدرتی اجزاء جسم سے فاسد مادے خارج کرتے ہیں اور انسان کو صحت مند رہنے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم ان کا کہناہے کہ سب سے بہتر اپنی صدیوں پرانی روایت کی جانب لوٹناہے۔

گویا دوسرے لفظوں میں صحت کے لیے سادہ پانی سے بہتر کوئی اور چیز نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG