رسائی کے لنکس

الیکٹرانک عینک: نمبر کی فکر سے آزادی

  • جمیل اختر

الیکٹرانک عینک

الیکٹرانک عینک

دنیا میں ایسے افراد کروڑوں میں ہیں جنہیں نظر کی عینک کی ضرورت پڑتی ہے اور ایسے لوگ بھی کچھ کم نہیں ہیں، جنہیں یہ علم ہی نہیں ہے کہ ان کی نظر کمزور ہے۔

کمزور نظر کا علاج ہے نظر کی عینک، یا کنٹیکٹ لینس یا پھر لیزر کے ذریعے آنکھ کے عدسے کی درستگی۔تاہم کچھ لوگ وٹامنز اور مقویات کھا کر بھی خود کو بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

نظر کی کمزوری پر قابو پانے کے لیے دنیا بھر میں جو چیز سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہے ، وہ ہے عینک۔۔ کچھ لوگوں کو پڑھنے کے لیے اور کچھ کو دور کی چیزیں دیکھنے کے لیے عینک کی ضرورت پڑتی ہے ۔ ایسے افراد بھی کچھ کم نہیں ہیں، جن کی نزدیک اور دور ، دونوں ہی نظریں کمزور ہوتی ہیں۔ وہ یا تودو الگ الگ یاپھر ایسی عینک استعمال کرتے ہیں جس میں دور اور نزدیک دونوں عدسے ہوتے ہیں۔

مگر بات یہیں تک محدود نہیں ہے ، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب دور ، نزدیک اور درمیانے فاصلےتینوں جگہ دیکھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ درمیانے فاصلے کی نظر کی کمزوری عمر اور وقت کے ساتھ بڑھتی رہتی ہے۔ اس کا ایک حل ہے پراگریسو لینس۔ یہ خصوصی عدسے دور سے نزدیک تک مخصوص نمبرکے درمیان ہرفاصلے پر صاف دیکھنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ مگر یہ بہت مہنگے ہوتے ہیں ، کیونکہ انہیں ہر آنکھ کے نمبر اور ضرورت کے مطابق انفرادی طورپر تیار کیا جاتا ہے۔

تاہم اب ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سارے مسائل سے چھٹکارہ ملنے کے دن قریب آگئے ہیں اور روایتی عینک اب بننے جارہی ہے ماضی کی ایک شئے ۔ اس سال کے آخر سے ایسی الیکٹرانک عینکوں کا استعمال شروع ہونے والا ہے جو آپ کی آنکھ کی ضرورت اور جس چیز کو آپ دیکھنا چاہیں گے، اس کے فاصلے کو سامنے رکھتے ہوئے خود کو ایڈجسٹ کرلے گی۔

توقع ہے کہ الیکٹرانک عینک اس سال کے آخر تک امریکہ اور اگلے سال برطانیہ میں فروخت کے لیے پیش کردی جائے گی۔

الیکٹرانک عینک برقی رو کے ذریعے کام کرتی ہے اور اس کے خصوصی عدسوں سے بجلی کا چارج گذر سکتا ہے جو اسے اپنانمبر سیٹ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

برقی عینک کی ساخت کچھ اس طرح کی ہے کہ اس کے ہر عدسے کے درمیان مائع کرسٹل کی ایک تہہ ہوتی ہے۔ جب عینک استعمال کرنے والا کسی چیز کو دیکھتا ہے تو مائع کرسٹل سے گذرنے والی برقی لہر ، فوکس کا تعین کرکے نمبر سیٹ کردیتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جس طرح ڈاکٹر آپ کو ایک کمپیوٹر مشین کے سامنے بٹھا کر آپ کی عینک کا نمبر نکال لیتا ہے۔

آپ نے کئی لوگوں کو نظر کی ایسی عینکیں پہنے دیکھا ہوگا جس میں اوپر نیچے دو الگ الگ عدسے لگے ہوتے ہیں۔اور انہیں پڑھنے یا دور دیکھنے کے لیے اپنی عینک بدلنی نہیں پڑتی۔ دو عدسوں والی عینک کا استعمال 1780 کے عشرے سے شروع ہوا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے موجد تھے امریکی جنگ آزادی کی ایک اہم شخصیت بنجمن فرینکلین۔

دو عدسوں والی عینک کے استعمال سےےبعض اوقات سردرد اور چکر آنے کی شکایت ہوجاتی ہے ۔ کیونکہ اس عینک میں آنکھ کو دور یا نزدیک دیکھنے کے لیے بہت معمولی جگہ ملتی ہےاور دوسرا یہ کہ دور یا نزدیک دیکھنےکے لیے ہر بار یا تو سرکو اوپر نیچے حرکت دیتی پڑتی ہے یا پھر آنکھ کی پتلی کو اوپر نیچے کرنا پڑتا ہے جو الجھن اور تھکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔

الیکٹرانک عدسے میں اس بنیادی خرابی پرقابو پانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔عینک تیار کرنے والی کمپنی پیکسل آپٹکس کا کہنا ہے کہ کسی چیز کو دیکھنے کے لیے پورا عدسہ ایک یونٹ کے طورپر کام کرتا ہے۔ اور آنکھ کو دیکھنے کے لیے زیادہ جگہ ملتی ہے۔ عینک کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا بٹن لگایا گیا ہے۔ جسے دبانے یا عینک کو دور یا نزدیک کے نمبر پر اپنی سہولت کے مطابق سیٹ کیا جاسکتا ہے۔

دو عدسوں کی روائتی عینک کے برعکس ، جس میں آپ صرف دور یا نزدیک کے مخصوص فاصلوں کی چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں، الیکٹرانک عینک میں پراگریسو لینس کی طرح درمیانی فاصلوں پر بھی نظر کو ایڈجسٹ کرنے کی سہولت موجود ہے۔

عینک میں ایک مخصوص سینسر لگایا گیا ہے جو آنکھ کی پتلی کی حرکت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تعین کرتا ہے کہ آیا آنکھ نزدیک کی چیز دیکھ رہی ہے یا دور کی یا پھر درمیانے فاصلے کی۔وہ اسی کے مطابق عدسے کا فوکس سیٹ کردیتا ہے۔

ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق ان دنوں الیکٹرانک عینک امریکہ میں عملی تجربات کے مرحلے سے گذر رہی ہے اور کمپنی کو توقع ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک اسے مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کردے گی، جب کہ برطانیہ میں اسے اگلے سال کے وسط تک متعارف کردیا جائے گا۔

کمپنی کے ایک عہدے دار پیٹر زائمن کا کہنا ہے کہ ہم اس خصوصی عدسے کی تیار پر پچھلے دس سال سے کام کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس ایجاد سے عینکوں کی روایتی ٹیکنالوجی میں طویل عرصے کے بعد جدت آئے گی،کیونکہ دھوپ اور سائے میں رنگ بدلنے والے عدسوں کی ٹیکنالوجی کو متعارف ہوئے اب 15 سال سے زیادہ گذر چکاہے۔

XS
SM
MD
LG