رسائی کے لنکس

پناہ گزینوں کا سب سے اہم مسئلہ صحت کی سہولتوں تک رسائی


پناہ گزینوں کا سب سے اہم مسئلہ صحت کی سہولتوں تک رسائی

پناہ گزینوں کا سب سے اہم مسئلہ صحت کی سہولتوں تک رسائی

گذشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان، ہیٹی، امریکہ اور جاپان سمیت کئی ممالک میں قدرتی سانحات کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ واشنگٹن کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ہیلتھ کی پروفیسر این پیٹرسن کے مطابق عارضی پناہ گاہوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور افراد کے لیے بنیادی مسئلہ پینے کے صاف پانی اور طبی ضروریات تک رسائی کا فقدان ہے۔

ان کا کہناتھا کہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ان علاقوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کی بنیادی وجہ جنگی حملے یا تشدد کی بجائے صاف پانی اور طبی سہولیات کا میسر نہ ہونا ہے۔ لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بارودی سرنگیں یا تشدد ان شہریوں کی ہلاکت کا اس طرح سبب نہیں بنتا جیسا طبی سہولیات کا نہ ہونا ہے۔

ایک عالمی امدادی ادارے انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے سینیئر ہیلتھ ڈائریکٹر ایمنیونل ڈی ہارکورٹ،کہتے ہیں کہ کسی قدرتی افت یا جنگ کی صورتھال میں متاثرہ ملک بعض انتہائی بنیادی اقدامات سے عوام کی صحت کا تحفظ یقینی بنا سکتے ہیں۔

ان کا کہناہے کہ ترقی پذیر اور کمزور معاشی ممالک میں اگر آپ کے پاس جدید بنیادی طبی سہولیات موجود نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں پر حاملہ خواتین کو بروقت طبی امداد نہیں مل سکتی، جس سے ان کی موت یا پھر مستقل معذوری کا اندیشہ ہوتا ہے۔ چھوٹے بچوں میں اموات کی شرح بھی بڑھ سکتی ہے۔ جبکہ بہت عام اور سستی ادویات سے ان مسائل سے بچاؤممکن ہے۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ قدرتی سانحات یا علاقائی تنازعوں کی وجہ سے بے گھر ہونے والوں کو طبی امداد فراہم کرنا امدادی اداروں کے ساتھ حکومتوں کی بھی اولین ترجیح ہونی چاہئے تاکہ کسی ناگہانی سے مجبور اپنا گھر چھوڑنے والوں کو کسی معمولی بیماری کے ہاتھوں اپنے پیاروں سے محروم نہ ہونا پڑے۔

این پیٹرسن کے مطابق جنگ یا قدرتی آفات کمزور انتظامی ڈھانچے کے حامل ملکوں کو ترقی یافتہ ملکوں کی نسبت زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ اگر پاکستان جیسا زلزلہ سان فرانسسکو میں آیا ہوتا تو اس سے کم تباہی ہوتی اور صحت کے حوالے سے بھی کم نقصان ہوتا۔ ترقی پذیر ممالک میں آنے والی کوئی بھی قدرتی تباہی زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ جس کی ایک اور مثال ہیٹی ہے ۔

ماہرین کا خیال ہے کہ کسی قدرتی آفت یا جنگ کی صورت میں بے گھر ہونے والے افراد کودرپیش طبی مسائل کسی نہ کسی سطح پر پہلے سے موجود ہوتے ہیں لیکن حفظان صحت کی سہولتوں تک رسائی کا نہ ہونا ان مسائل کو کئی گنا پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پناہ گزینوں کو طبی امداد پہنچانے کا بندوبست عموماً عارضی طور پر کیا جاتا ہے لیکن اگر انہیں سالہا سال تک امدادی کیمپوں یا عارضی ٹھکانوں میں زندگی گزارنی پڑے تو صحت کے بنیادی مسئلوں پر بھی طویل مدتی بنیاد پر توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

XS
SM
MD
LG