رسائی کے لنکس

لوپس کے مرض کی نئی دوا

  • ویدوشی سنہا
  • آمنہ خان

لوپس کے مرض کی نئی دوا

لوپس کے مرض کی نئی دوا

ایک غیر سرکاری امریکی تنظیم لوپس فاؤنڈیشن آف امریکہ کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا 50 لاکھ افراد لوپس کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اس مرض میں جسم کا مدافعتی نظام اپنے ہی خلیوں کو بیماری کےجراثیم سمجھ کر اُن پر حملہ کر دیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں کئی طرح کی پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ حال ہی میں امریکہ میں اس مرض کے لیے ایک نئی دوا کے استعمال کی منظوری دی گئی ہے۔ انسانی جین پر تحقیق کے نتیجے میں مارکیٹ میں آنے والی یہ اپنی نوعیت کی پہلی دوا ہے۔

ایوا گاسکن کی شادی کو 17 سال ہو گئے ہیں، لیکن چار سال پہلے کی بات ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر کودیکھا تو اسے پہچان نہیں سکیں اور انہیں ایسا لگا جیسے وہ کوئی اجنبی شخص ہے اور انہیں قتل کرنا چاہتا ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق وہ لوپس میں مبتلا تھیں اوریہ مرض دماغ میں سوجن پیدا کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ میں پریشانی اور بے خوابی کا شکار تھی۔ ہم سمجھ نہیں پارہے تھے کہ مجھ میں یہ تبدیلیاں کیوں آ رہی ہیں۔ یہ تبدیلی میرے خاندان کےلیے بھی پریشانی کا سبب بنی رہی۔ تاہم علاج شرو ع ہونے کے بعد بیماری کی علامتیں کم ہونا شروع ہوگئیں۔

دماغ کی وہ سوجن جس کی وجہ سے ایوانے اپنے شوہر کو اجنبی اور قاتل سمجھا، جلد ہی ان کے پھیپھڑوں تک پہنچ گئی۔ اور انہیں سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔

لوپس ایک جان لیوا بیماری ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ مرض اس وقت پیدا ہوتاہے جب جسم کا مدافعتی نظام صحت مند خلیوں اور جراثیم میں تفریق نہیں کر پاتا۔ اور اپنے ہی خلیوں کو جراثیم سمجھ کر ان پر حملہ کر دیتا ہے۔

لوپس کی مختلف علامات میں نفسیاتی مسائل کے علاوہ جلد کی سوزش اور جوڑوں کی تکلیف بھی شامل ہیں۔ان مرض کا علاج عموما درد کم کرنے کی ادویات، سٹیرائیڈز اور ملیریا کی دواوں سے کیا جاتا ہے۔ مگر یہ طریقہ علاج خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ موثر بھی نہیں ہے۔

امریکی محکمہ خوراک اور ادویات نے حال ہی میں Benlysta نامی ایک نئی دوا کی منظوری دی ہے، جو خصوصی طور پرلوپس کے علاج کے لیے تیار کی گئی ہے۔

ایوا کا کہناہے کہ لوپس کے مریضوں کےلیے ایک خاص دوا کا مارکیٹ میں آنا بہت خوشی کی بات ہے۔ کیونکہ ماضی میں ہم ایسی دوائیں استعمال کرتے رہے ہیں جو کارآمد تو ثابت ہوئیں، لیکن وہ ہمارے علاج کےلیے نہیں بنائی گئی تھیں۔

Benlystaنامی یہ نئی دواطبی شعبےمیں ایک نیا آغاز بھی ہے۔ اسے ب امریکی کمپنی Human Genome sciences نے تیار کیا ہے ۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ انسانی جین پر تحقیق کے نتیجے میں بننے والی پہلی دوا ہے۔

دوا تیار کرنے والی کمپنی کے ایک ماہر بیری لیبن گرکہتے ہیں Benlystaجسم کے مدافعتی نظام کی ان علامات کو روکتی ہے جو صحت مند خلیوں پر حملہ کرتے ہیں۔ یہ بیماری عموما خواتین اور سیاہ فام لوگوں میں زیادہ ہے۔ یہ دوا ان کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔

لوپس کی بیماری خواتین میں مردوں کی نسبت نو گنا زیادہ عام ہے، اور دوسرے لوگوں کی نسبت سیاہ فام امریکیوں، ہسپانوی، اور ایشیائی باشندوں میں زیادہ عام ہے۔

بیری کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی جلد ہی سیاہ فام مریضوں پر تحقیق شروع کرکے ان کے لیے بھی مؤثر دوا بنانے کی کوشش کرے گی۔

XS
SM
MD
LG