رسائی کے لنکس

ویڈیو گیمز بچوں کو نفسیاتی امراض میں مبتلا کرسکتی ہیں

  • ودوشی سنہا
  • آمنہ خان

ویڈیو گیمز بچوں کو نفسیاتی امراض میں مبتلا کرسکتی ہیں

ویڈیو گیمز بچوں کو نفسیاتی امراض میں مبتلا کرسکتی ہیں

کھیل کود بچوں کو بہت پسند ہے لیکن اب ویڈیو گیمز میں ان کا رجحان بڑھ رہاہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ویڈیوگیمز دماغی صلاحتوں کو مہمیز کرتی ہیں لیکن ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو بچے اپنا زیادہ تر وقت ویڈیو گیمز کھیلنے میں صرف کرتے ہیں ، وہ نفسیاتی بیمایوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

ہائی اور پرائمری سکولوں کےتقریبا تین ہزار بچوں پر دو سال تک تحقیق کرنے کے بعد ماہرین کا ایک بین الاقوامی گروپ اس نتیجے پر پہنچا کہ نفسیاتی مسائل میں مبتلا طالب علموں میں ایسے بچوں کی تعداد زیادہ تھی جو اپنے وقت کا بیشتر حصہ وڈیو گیمز کھیلنے میں گذاررہے تھے۔

ڈاکٹر مائیکل میناس اگرچہ اس تحقیق میں شامل تو نہیں تھے، لیکن وہ کلیولینڈ کلینک چلڈرن میں بچوں کے نفساتی امراض کے ماہرہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جہاں تک بچوں اور وڈیوگیمز کا تعلق ہے، اعتدال سے بہتر کوئی انتخاب نہیں۔

ڈاکٹر میناس کا کہنا ہے کہ یہ بات پہلی مرتبہ کسی تحقیق میں سامنے آئی ہے کہ بہت زیادہ وڈیو گیمز کھیلنے والے بچوں میں ڈیپریشن اور پریشانی بڑھ جاتی ہے اور وہ دوسروں سے ملنے جلنے سے گھبراتے ہیں۔ جب ان بچوں نے وڈیو گیمز کھیلنے میں کمی تو ان کے دوسرے مسائل بھی کم ہو گئے۔

ماہرین نے اپنی تحقیق میں ویڈیو گیمز کھیلنے والے بچوں کے مختلف گروپ بنائے۔ ایک گروپ ایسے بچوں پر مشتمل تھا جو ہر ہفتے تقریبا 31 گھنٹے وڈیو گیمز کھیلنے پر صرف کرتے تھے، جب کہ بچوں کا دوسرا گروپ ہفتے میں تقریبا 19 گھنٹے وڈیو گیمز کھیل رہا تھا۔ ان دونوں گروپوں کا موازنہ کرنے پر یہ معلوم ہوا کہ پہلے گروپ کے بچے دوسروں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے زیادہ گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں۔

ڈاکٹر میناس کہتے ہیں کہ یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اگر کوئی بچہ ڈیپریشن کا شکار ہو، یا جو ہر وقت پریشان رہتا ہو، وہ ویڈیو گیمز کا اس لیے رخ کرے گاکیونکہ وہاں اسے اپنے لیے تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔

لیکن اس تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ویڈیو گیمز کھیلنے میں بچوں کا دورانیہ کم کرنے سے ان میں موجودہ نفسیاتی بیماریوں کی شدت میں بھی کمی آئی۔

ڈاکٹر میناس کا کہناہے کہ اس کا صرف ایک ہی حل ہے۔ وہ یہ کہ بچوں کو بہت زیادہ وڈیو گیمز کھیلنے سے روکیں۔ لیکن ممکن ہے کہ جو بچے ان گیمز کے عادی ہوچکے ہیں، انہیں اس سے دور رکھنے کے لیے ممکن ہے کہ والدین کو کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا پڑے۔

بچوں کی صحت سے متعلق ایک امریکی ادارے کا مشورہ ہے کہ چھوٹے بچوں کو دن میں ایک گھنٹے سے زیادہ وڈیو گیمز کھیلنے، کمپیوٹر استعمال کرنے یا ٹی وی دیکھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ تاہم ہائی سکول میں زیر تعلیم بچوں کے لیے یہ وقت دو گھنٹے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

کمپیوٹر اور ویڈیو گیمز کے ایک نمائندہ ادارہ انٹرٹینمنٹ سافٹ ویر ایسوسی ایشن اس تحقیق سے متفق دکھائی نہیں دیتا۔ اس کا کہناہے کہ تحقیق کے نتائج درست نہیں ہیں اور اس میں کئی خامیاں موجود ہیں۔

XS
SM
MD
LG