رسائی کے لنکس

سال 2014ء میں دنیا بھر میں ایبولا وائرس اور پولیو وائرس کے بارے میں عالمی تشویش میں اضافہ دیکھا گیا۔

صحت کے حوالے سے بات کریں تو رواں برس کے دوران ایبولا کے باعث ہونے والی ہلاکتیں، چونکا دینے والا معاملہ تھا، جس دوران وائرس سے پھیلنے والی اس بیماری کے بارے میں دنیا بھر میں شعور بیدار کرنے کی مربوط کوششیں کی گئیں۔ یوں تو ایبولا کا زیادہ تر شکار مغربی افریقی ممالک ہوئے، جہاں عالمی ادارہ ِصحت کے اعداد و شمار کے مطابق، 19 ہزار سے زائد افراد میں اس مرض کی تشخیص کی گئی۔

مگر عالمی سطح پر ہی صحت کے حوالے سے جس دوسری خبر کو نمایاں طور پر اجاگر کیا گیا وہ پاکستان میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بارے میں تھی۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ دنیا بھر سے پولیو کا تقریباً خاتمہ ہو چکا ہے، پاکستان میں پولیو کے مریضوں کی بڑھتی تعداد یقیناً نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے لیے تشویش ناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔

2014ء میں ایبولا سے 7,000 سے زائد ہلاکتیں:

ایبولا وائرس کے بارے میں دنیا بھر میں تشویش اس وقت پیدا ہوئی جب مغربی افریقی ممالک میں ایبولا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ نوٹ کیا گیا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس ابھی بھی سیرا لیون، لائبیریا اور گِنی جیسے ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے، اور بظاہر اس کی سد ِباب کی کوئی سبیل دکھائی نہیں دیتی۔

ایبولا وائرس ایک مہلک مرض ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایبولا کی علامات میں بخار، تھکاوٹ، شدید سر درد، کمزوری، قے، پیٹ میں درد اور جسم سے خون بہنا وغیرہ شامل ہیں۔ ابھی تک ایبولا سے متعلق کوئی طریقہ ِعلاج یا ویکسین نہیں دریافت کی جا سکی ہے۔

عالمی ادارہ ِصحت کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں برس ایبولا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 19،497 ریکارڈ کی گئی، جبکہ 7،588 مریض اس مرض کے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھے۔

پاکستان میں پولیو کی بڑھتی تشویشناک شرح:

سال 2014ء میں دنیا بھر میں پاکستان میں پولیو کے بڑھتے ہوئے مرض اور اس کی روک تھام سے متعلق کوتاہیوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔ عالمی اخبارات میں وقتاً فوقتاً پاکستان میں پولیو کے سامنے آنے والے نئے کیسز اور پولیو ورکرز کے قتل کو بھی نمایاں جگہ دی گئی۔

پولیو کے خاتمے سے متعلق ادارے ’پولیو ایریڈیکیشن ڈاٹ آرگ‘ پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2014ء میں دنیا بھر میں پولیو کے کل 324 کیسز رپورٹ ہوئے۔ پاکستان میں 4 دسمبر 2014ء تک پولیو کے کل 291 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔

ماہرین کے مطابق، پاکستان میں پولیو کا مرض زیادہ تر خیبر پختونخواہ میں پایا جاتا ہے اور رواں برس پاکستان میں پولیو کے سامنے آنے والے کیسز میں اکثریت فاٹا کے علاقے سے ہے۔

رواں برس ہی مئی میں عالمی ادارہ ِصحت نے پاکستان میں پولیو کے معاملے کو ’عالمی سطح پر تشویش‘ کا موجب قرار دیا اور پاکستان سمیت کیمرون اور شام پر سفری پابندیوں کی سفارش کی تھی اور کہا تھا کہ ان ممالک سے پولیو کا وائرس دنیا کے دیگر ممالک میں منتقل ہو رہا ہے۔

یکم جون 2014ء سے پاکستان سے بیرون ِملک سفر کرنے والے تمام مسافروں کے لیے پولیو کی ویکسینیشن کا کارڈ پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ اس زمرے میں بچے، بالغ، خواتین اور بزرگ بھی شامل تھے۔

عالمی ادارہ ِصحت نے پاکستان میں پائے جانے والے پولیو وائرس کی شام، اسرائیل اور مصر میں موجودگی کے انکشاف کے بعد عالمی ادارہ ِصحت نے حکومت ِپاکستان کو پولیو وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔

2030 ء تک دنیا سے ایڈز کا خاتمہ ممکن، اقوام متحدہ:

سال ِرواں میں یکم دسمبر کو دنیا بھر میں ایڈز کا عالمی دن منایا گیا۔ اقوام ِ متحدہ کے یو این ایڈز پروگرام کے مطابق، 2030ء تک دنیا سے ایڈز کے خاتمے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ایڈز سے متعلق ایک عالمی گروپ کا کہنا ہے کہ 2030ء تک یہ ہدف پورا کرنے کے لیے نہ صرف ٹھوس پلان کی ضرورت ہے، بلکہ درست سمت میں عملی اقدامات اٹھانا بھی ناگزیر ہے۔

موٹاپے پر عالمی تشویش، ذیابیطس، دل کے امراض اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کی شرح میں تشویشناک اضافہ:

عالمی ادارہ ِصحت کے مطابق، 1980ء کے بعد سے دنیا بھر میں موٹاپے کے شکار افراد کی تعداد میں تقریباً دو گنا اضافہ ہوا۔ 2008ء میں دنیا بھر میں 20 برس یا اس سے زائد عمر کے 1.4 ارب افراد موٹاپے کا شکار تھے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ فربہی کے باعث انسان کو ذیابیطس، دل کے امراض اور بلڈ پریشر سمیت دیگر کئی عوارض لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اسی لیے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ موٹاپے کے شکار افراد کے لیے آگاہی کو ضروری قرار دیا جائے اور روز مرہ کی خوراک میں جنک فوڈ اور دیگر چکنی غذاؤں سے اجتناب کرنے کی تلقین کی جائے۔

XS
SM
MD
LG