رسائی کے لنکس

’آج امریکہ میں ہر پانچ میں سے ایک کو یہ مسئلہ لاحق ہے۔ امریکہ میں پانچ کروڑ لوگ ایسے ہیں جن کی قوتِ سماعت کمزور ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ سب سے زیادہ 40 اور 60 برس عمر کے دوران پیش آتا ہے۔ اِس سے بچنے کے لئے، انسان کو شور سے دور رہنا چاہئے‘

کچھ لوگ ماضی میں کی گئی باتوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ بات تو کبھی ہوئی ہی نہیں تھی۔ کبھی وہ سلام کا جواب نہیں دیتے۔ کبھی بات سننے کے بعد سمجھتے نہیں۔ کبھی بار بار بات کو دہرانے کو کہتے ہیں۔ کبھی اپنے کان کے پیچھے ہاتھ رکھ کر سامنے والے سے کہتے ہیں ’کیا کہا‘؟

یہ لو گ اونچا سنتے ہیں۔ اُن کی قوتِ سماعت کمزور ہوتی ہے۔ اور ان کو خود اپنی اور دوسروں کی مدد کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔

’ریڈرز ڈائجسٹ‘ کے مطابق، جو لوگ اونچا سنتے ہیں اُن سے بات کرتے ہوئے چیخنا نہیں چاہئے۔ بلکہ، اپنی بات صاف صاف کرنی چاہئے۔ اُن کی طرف جھک کر قریب جا کر بات کرنے کی بجائے اُن کے سامنے رہ کر بات کرنی چاہئے، تاکہ وہ بولنے والے کے لب پڑھ سکیں۔

کمزور قوت سماعت کے حامل لوگوں سے بات کرتے ہوئے، ٹی وی کے شور اور ایسے ہی دوسرے شور کو بند کر دینا چاہئے۔ اُن سے بات کرتے ہوئے ایک وقت میں ایک شخص کو بات کرنی چاہئے اور اگر کمزور قوتِ سماعت والے لوگ بات نہ سن یا نہ سمجھ پائیں، تو بولنے والے کو ہمت نہیں ہارنی چاہئے۔ بلکہ، اپنی بات کو پھر دہرانا چاہئے۔

اِس ماہنامے میں شائع ہونے والی یہ باتیں کیتھرین بوٹن کی کتاب ’شاوٴٹنگ وونٹ ہیلپ‘ کی بنیاد پہ لکھی گئیں ہیں۔ کیتھرین بوٹن ’نیو یارک ٹائمز‘ سے 22 برس تک وابستہ رہیں ہیں اور وہ بھی سینئر ایڈیٹر کی حیثیت سے۔ اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگوں کی قوتِ سماعت کمزور ہوتی ہے وہ معاشرے میں کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں، جو کہ ایسے لوگوں کی ذہنی صلاحیتوں کو ختم کرنے کا سبب بن سکتیں ہیں۔ اور اِس لئے ایسے لوگوں کو اپنے جیسے دوسرے لوگوں کے تجربات سے سیکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اور اگر ڈاکٹر اُنھیں سننے میں مدد دینے والی مشین لگوانے کا مشورہ دیں تو انھیں ضرور ایسا کرنا چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کی قوتِ سماعت کمزور ہو رہی ہو یا ہوگئی ہو، تو اسے اس بات کو قبول کر لینا چاہئے اور دوسروں کے سامنے بھی اس بات کا اظہار کر لینا چاہئے، تاکہ ان سے ان کی کہی ہوئی بات کو دہرانے کی درخواست کی جاسکے۔

کیتھرین بوٹن کہتی ہیں کہ ان کی اپنی قوتِ سماعت کمزور ہے اور انھوں نے اپنے تجربات کو اپنی کتاب میں شامل کیا اور انہی نے انھیں یہ کتاب لکھنے پہ مائل کیا۔

انھوں نے کہا ہے کہ جس کسی کے ساتھ بھی یہ مسئلہ ہو، اسے اپنا علاج کروانا چاہئے۔ کیونکہ، وہ اکیلا نہیں۔ اُن کے مطابق، آج امریکہ میں ہر پانچ میں سے ایک کے ساتھ یہ مسئلہ ہے۔ امریکہ میں پانچ کروڑ لوگ ایسے ہیں جن کی قوتِ سماعت کمزور ہے اور یہ مسئلہ سب سے زیادہ 40 اور 60 برس عمر کے بیچ پیش آتا ہے اور اس سے بچنے کے لئے انسان کو شور سے دور رہنا چاہئے۔
XS
SM
MD
LG