رسائی کے لنکس

'دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت۔۔۔۔'


'دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت۔۔۔۔'

'دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت۔۔۔۔'

دل کا تذکرہ شاعری میں جابجا ملتا ہے۔ دل ٹوٹنے، جڑنے، ملنے اور خفا ہونے کی باتیں موضوع سخن رہتی ہیں مگر اس سے قطع نظر فی زمانہ دنیا بھر میں 29 فیصد اموات کا سبب بھی یہی دل ہے اورماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر ہم اپنے دل سے اچھے مراسم رکھنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس کا بھی خاطر خواہ خیال رکھیں۔

لوگوں میں دل کی صحت سے متعلق شعور اجاگر کرنے اور امراض قلب سے بچاؤ اور حفاظتی تدابیر سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے دنیا بھر میں ’عالمی یوم قلب‘ ہر سال ستمبر کے آخری ہفتے میں منایا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں ماہرین امراض قلب نے اس بات پر زور دیا کہ صحت مندانہ طرز زندگی اپنا کر اس جان لیوا مرض سے بچا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر شہباز قریشی

ڈاکٹر شہباز قریشی

دارالحکومت کے سرکاری ہسپتال پولی کلینک کے شعبہ امراض قلب کے سربراہ ڈاکٹر شہباز قریشی نے کہا کہ دل کی بیماریوں کی بہت سے وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن چند ایک بنیادی اسباب میں سب سے اہم ہائی بلڈ پریشر یعنی بلند فشار خون ہے۔ انھوں نےبتایا کہ پاکستان کی تقریباً 20 فیصد بالغ آبادی یعنی ایک کروڑ بیس لاکھ لوگ بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔’’یہ (بلڈ پریشر) خاموش قاتل ہے شب خون مارتا ہے اور اس کے ہونے کی کوئی ٹھوس وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی ہے لہذا کوشش کریں کہ بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھیں کیونکہ اگر انسان کا بلڈ پریشر ٹھیک ہو تو پھر سب ٹھیک ہوگا۔‘‘

ذیابیطس، خون میں چکنائی کی زیادتی یعنی بڑھا ہوا کولیسٹرول،موٹاپا،تمباکو نوشی، ذہنی دباؤ اور پریشانی بھی امراض قلب کی وجوہات بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹر قریشی نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ملک میں 45 سال سے زائد عمر کے ہر تیسرے شخص کو ہائی بلڈ پریشر ہے۔ انھوں نے کہا ’’چکنائی والی چیزیں نہ استعمال کی جائیں،خوراک میں نمک کا استعمال کم سے کم کیا جائے، روزانہ کم ازکم تیس منٹ کی ورزش کی جائے، یہ سب دل کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ایک عام اور صحت مند آدمی کا بلڈ پریشر 120/80 ہونا چاہیے اور اگر کسی کا بلڈ پریشر اس سے زیادہ رہتا ہو تو اسے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے ممالک میں امراض قلب کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور دنیا بھرمیں اس مرض سے ہونے والی زیادہ تر اموات بھی ترقی پذیر ملکوں میں ہورہی ہیں۔ ان کے بقول ایک ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے ہمیں’’علاج سے زیادہ احتیاط‘‘ پر توجہ دینی چاہیے۔

انھوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ دل کی بیماریاں جو کبھی امراء کے طبقے میں پائی جاتی تھیں اب یہ عمر، جنس اور طبقے کی قید سے آزاد ہیں اور کسی کو بھی لاحق ہوسکتی ہیں۔

تقریب میں ڈاکٹر شوکت ملک اور ڈاکٹر علی رضا کاظمی نے بھی لوگوں میں امراض قلب سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اور دل کی صحت سے متعلق معلومات کی آگاہی پر زور دیا۔

ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں مردوں کے علاوہ عورتوں میں بھی دل کی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ صحت مندانہ طرز زندگی کو فروغ دیا جائے اور احتیاط کو ترجیح دی جائے اور یہ سلسلہ اپنے گھر سے شروع کیا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر قریشی کا کہنا تھا کہ گھر میں تمباکو نوشی بالکل ممنوع ہو تاکہ سگریٹ پینے والے کے علاوہ باقی گھر کے افراد بھی اس کے مضر صحت اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ ’’ گھر میں صحت بخش خوراک رکھیں جن میں پھل اور سبزیاں زیادہ ہوں۔ ٹی وی دیکھنے میں زیادہ وقت صرف نہ کریں۔ وڈیو گیمز پر ٹائم ضائع کرنے سے بہتر ہے بچوں کے ساتھ ذہنی و جسمانی ورزش یا کھیل کود پر توجہ دیں۔‘‘

XS
SM
MD
LG