رسائی کے لنکس

ڈنمارک میں آہس یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر سائمن گراف نے جریدہ 'اوپن ہارٹ' میں لکھا کہ یہ خطرہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے دوگنا تھا جو ساٹھ سال سے کم عمر تھے اور جنھوں نے اچانک اپنے صحت مند ساتھی کو کھو دیا تھا۔

ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اپنے کسی پیارے یا شریک حیات کے اچانک دنیا سے رخصت ہو جانے جیسے شدید دکھ کے واقعات آپ کے دل کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور اس غم سے آپ کا دل حقیقی معنوں میں پھٹ سکتا ہے۔

آہس یونیورسٹی کے محققین کہتے ہیں کہ اچانک کوئی بڑا جذباتی دھچکا جیسے شریک حیات کی موت کا صدمہ اٹھانے سے دل کی ایک بیماری' ایٹریل فیبریلیشن ' پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جب کہ دل کی اس بیماری سے بعض اوقات دل کی دھڑکنیں بند بھی ہو جاتی ہے اسے کارڈیک اریسٹ یا حرکت قلب کا بند ہو جانا کہتے ہیں۔

محققین نے اپنے مطالعے میں اچانک صدمے کے ایک عام اثر کا اندازہ لگایا ہے۔ جسے 'اردھمیاز' یعنی دل کی بے قاعدہ دھڑکنوں کی بیماری ایٹریل فیبریلیشن یا 'اختلاج قلب' بھی کہا جاتا ہے۔

مطالعے کے لیے ڈنمارک کے ایک تفصیلی میڈیکل نظام کے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا۔ جس میں 1995 سے 2014 کے درمیان 88,000ہزار سے زائد افراد میں پہلی مرتبہ بے قاعدہ دل کی دھڑکن کی تشخیص ہوئی تھی۔

محققین نے بعد میں 880,000 صحت مند لوگوں کے ایک گروپ کے ساتھ پہلے گروپ کے لوگوں کےحالات کا موزانہ کیا ہے۔

اس مدت کے دوران دونوں گروپ میں سے تقریبا 19 فیصد لوگوں نے اپنے شریک حیات کو کھویا تھا اور دونوں گروپ میں بہت سے لوگ ایٹریل فیبریلشن میں مبتلا ہو گئے تھے۔

لیکن یہ بیماری ان لوگوں میں زیادہ دیکھی گئی جنھوں نے ابھی ابھی اپنا ساتھی کھویا تھا خاص طور پر جنھوں نے شریک حیات کی اچانک موت کا صدمہ جھیلا تھا۔

اس دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ کیا شریک حیات کی موت اچانک دل کا دورہ پڑنے سے واقع ہوئی تھی یا پھر طویل علالت کے باعث موت واقع ہوئی تھی۔

ڈنمارک میں آہس یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر سائمن گراف نے جریدہ 'اوپن ہارٹ' میں لکھا کہ یہ خطرہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے دوگنا تھا جو ساٹھ سال سے کم عمر تھے اور جنھوں نے اچانک اپنے صحت مند ساتھی کو کھو دیا تھا۔

ڈینش محقق سائمن گراف کے مطابق شریک حیات کی موت کے فورا بعد یعنی 8 سے 14 دنوں کے درمیان شرکاء میں ایٹریل فیبریلیشن کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا تھا اور یہ لوگ کم از کم ایک سال تک اس بیماری کے بڑے خطرے میں تھے۔

محققین نے دیگر عوامل کو شامل کرنے کے بعد اندازہ لگایا کہ مجموعی طور پر دل کی اس بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ ان لوگوں کے لیے 41 فیصد زیادہ بڑھا تھا جو اپنے شریک حیات کی موت کے غم میں سوگوار تھے۔

لیکن جن لوگوں نے اچانک شریک حیات کو کھویا تھا وہ ایٹریل فیبریلیشن کے 57 فیصد خطرے میں زیادہ تھے۔

انھوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ شدید دباؤ نارمل دل کی دھڑکنوں میں خلل ڈالتا ہے اور سوزش کے ذمہ دار کیمیکلز کی پیداوار کو بڑھاتا ہے۔

مصنفین نے جریدہ میں لکھا کہ ''شریک حیات کی موت زندگی کے سب سے غم ذدہ واقعات میں سے ہے اور یہ زیادہ تر لوگوں کو متاثر کرتا ہے اور یہ صدمہ ان کی برداشت کی صلاحیت سے بڑھکر ہوتا ہے ''

انھوں نے لکھا کہ'' کثیر آبادی کی بنیاد پر کیا جانے والے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ انسانی زندگی کا یہ بڑا غم دل کی بیماری ایٹریل فیبریلیشن کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے اور اس بیماری کا خطرہ سال بھر قائم رہتا ہے۔''

مصنفین نے متنبہ کیا کہ مطالعہ سے صدمے اور دل کی بیماری کا براہ راست تعلق ظاہر نہیں ہوا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ صدمہ کو عام طور پر دل کی بیماریوں ذہنی بیماری یہاں تک کے موت کے ساتھ بھی منسلک کیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG