رسائی کے لنکس

افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں: سرتاج عزیز


سرتاج عزیز

سرتاج عزیز

افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کےلیے سب کو مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے

پاکستان کے اعلیٰ ترین سفارتکار نے کہا ہے کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں اور ان کا ملک باہمی تعاون کے ذریعے افغانستان کو ترقی، خوشحالی اور امن کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

یہ بات وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے افغانستان میں امن و استحکام کے لیے قائم ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسسس فورم کے اعلیٰ عہدیداروں کے پیر کو اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس سے خطاب میں کہی۔

پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں ایک درجن سے زائد رکن ممالک اور حامی ملکوں کے حکام کے علاوہ علاقائی و بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ مل کر رابطہ کاری کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔

"افغانستان کی ہمارے لیے بہت اہمیت ہے۔ صرف اس لیے نہیں کہ ہماری سرحد مشترک ہے یا ہم مذہبی و نسلی اعتبار سے ایک دوسرے کے قریب ہیں بلکہ ہم (افغان) صدر اشرف غنی کے تصور کے مطابق علاقائی تعاون اور رابطہ کاری کے ایک نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں۔"

افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کےلیے سب کو مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسسس کے رکن ممالک اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

"سکیورٹی خطرات اور اقتصادی ترقی کا فقدان ہمارے بنیادی چیلنجز ہیں اور ان پر قابو پانے کے لیے ہمیں سیاسی و تکنیکی سطح سمیت مختلف حوالوں سے تعاون کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال بدل رہی ہے اور ہمیں سقم کے باوجود اس پر مشترکہ طور پر ردعمل دینا ہوگا۔"

مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی اپنے ملک میں سلامتی و خوشحالی کے لیے خودانحصاری پر مبنی تصور رکھتے ہیں جس کے لیے وہ پاکستان سمیت دیگر ممالک سے تعاون کے خواہاں ہیں اور پڑوسی ملک ہونے کے ناطے پاکستان سے ان کی توقعات زیادہ ہیں۔

حالیہ مہینوں میں ماضی کی نسبت دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں قابل ذکر بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور اعلیٰ سیاسی و عسکری روابط سے اعتماد سازی کو بھی فروغ حاصل ہوا ہے جو کہ مبصرین کے بقول دونوں ملکوں اور خطے میں سلامتی و استحکام کے لیے خوش آئند ہے۔

XS
SM
MD
LG