رسائی کے لنکس

کئی دواؤں کی بجائے ایک دوا، زندگی آسان


برطانیہ میں کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق اگر دل کے مریضوں کو بہت سی دواؤں کی بجائے صرف ایک دوا دی جائے تو وہ اسے نسبتاً زیادہ باقاعدگی سے لے سکیں گے۔

بہت سے ایسے مریض جو دل کے امراض میں مبتلا ہیں یا جنہیں فالج ہو چکا ہے، اپنی دوائیں وقت پر نہیں لیتے جیسا کہ انہیں لینی چاہیئں۔

ایک تحقیق کے مطابق ایسے افراد جنہیں فالج ہو چکا ہو، اکثر اپنی بیماری سے تین ماہ کے اندر اندر باقاعدگی سے دوا لینا چھوڑ دیتے ہیں۔

برطانیہ میں کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق اگر دل کے مریضوں کو بہت سی دواؤں کی بجائے صرف ایک دوا دی جائے تو وہ اسے نسبتاً زیادہ باقاعدگی سے لے سکیں گے۔

ایسے افراد جن میں دل کے امراض اور فالج ہونے کا خطرہ ہے، بعض اوقات بہت سی دوائیں کھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان میں سے چند دوائیں بلڈ پریشر میں کمی کے لیے ہوتی ہیں۔ چند دوائیں کولیسٹرول کو کنٹرول کرتی ہیں اور باقی ادویات دل کے امراض سے بچاؤ کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر سائمن تھوم کا تعلق لندن میں امپیرئیل کالج میں دل اور پھیپھڑوں کے شعبے سے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایسے مریض عموماً ایک سے زیادہ دوا لینے سے گھبراتے ہیں۔

اسی لیے ڈاکٹر سائمن تھوم نے دو ہزار مریضوں پر مشتمل ایک تحقیق کی۔ اس تحقیق میں 90 ٪ مریض دل کے امراض میں مبتلا تھے یا پھر انہیں فالج ہو چکا تھا۔ بقیہ 10 % ایسے تھے جن میں ان بیماریوں میں مبتلا کی شرح بہت زیادہ تھی۔ ان میں سے آدھے مریضوں کو روزانہ مختلف دواؤں کے مرکب سے بنائی گئی دوا ’پولی پل‘ دی گئی۔

’پولی پل‘ میں بلڈ پریشر، ایسپرین اور خون کی شریانوں کے بہاؤ کو برقرار رکھنے والی دوائیں شامل تھیں۔

ڈاکٹر سائمن تھوم کا کہنا ہے کہ تحقیق کے آخر میں زیادہ تر مریض اس دوا کو دیگر دواؤں کی نسبت اس لیے فوقیت دے رہے تھے کہ انہیں ایک سے زیادہ دوائیں نہیں لینی پڑتی تھیں۔
XS
SM
MD
LG