رسائی کے لنکس

جگہ جگہ پانی کے ایسے فوارے نصب کئے گئے جن سے پانی کی بجائے ان کے بخارات نکلتے جو لوگوں کو بھگونے کی بجائے ٹھنڈ پہچاتے ہیں۔ لوگ دن بھر ان فواروں کے اطراف میں تفریح کرتے اور خود کو گرم لہروں سے بھی محظوظ کرتے رہے۔

کراچی میں گرمی کی حالیہ لہر نے سیکڑوں لوگوں کی جان لے لی، جنھیں، ماہرین کے مطابق، معمولی نوعیت کے اقدامات لے کر بچایا جا سکتا تھا۔

موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کا یہ تغیر کوئی نئی بات نہیں۔ اسی سال بھارت بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہوا، جب کئی ہزار لوگ لقمہٴ اجل بن گئے۔ چند برس پہلے، نیویارک سمیت، امریکہ کے بیشتر مشرقی ساحلی شہروں میں بھی اسی طرح کی گرمی کی تاریخی لہر آئی تھی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس موقع پر، نیویارک کی شہری حکومت کی جانب سے لئے گئے اقدامات کراچی جیسے شہر کی انتظامیہ کے لئے ایک مثال ہیں۔

موسم گرم ہوتے ہی، نیویارک، شکاگو اور دیگر شہروں میں ایمرجنسی منجمنٹ آفس نے شہریوں کے لئے رہنما اصول جاری کرنے کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ کولنگ سینٹرز قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔

نیویارک کے اُس وقت کے میئر بلوم برگ نے شہر کے مختلف علاقوں میں 380 کولنگ سنٹرز قائم کردئے اور اسکولوں اور کمیونٹی سنٹرز کی عمارتوں کے ائرکنڈیشن آن کرکے اسے عام شہریوں کےلئے کھول دیا۔

شہری حکومت نے ’ایئر کوالٹی الرٹ‘ جاری کیا، تاکہ لوگوں کو ہوا میں نمی کا تناسب اور اس کے صحت پر اثرات کا پتہ چل سکے۔

جگہ جگہ پانی کے ایسے فوارے نصب کئے گئے جن سے پانی کی بجائے ان کے بخارات نکلتے جو لوگوں کو بھگونے کی بجائے ٹھنڈ پہچاتے ہیں۔ لوگ دن بھر ان فواروں کے اطراف میں تفریح کرتے اور خود کو گرم لہروں سے بھی محظوظ کرتے رہے۔

شہری حکومت نے ایمرجنسی کے تحت بڑی عمر کے لوگوں کے لئے خصوصی انتظامات کئے، انھیں کولنگ سنٹرز میں مفت پانی اور کولڈ ڈرنک پیش کیا گیا۔

ساتھ ہی، انٹرنیٹ پر تمام کولنگ سنٹرز کی نشاندہی کی گئی اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ان سنٹرز کا بھرپور استعمال کرکے خود کو گرم لہروں سے بچائیں۔

ایمرجنسی سنٹرز نے ہدایت جاری کی کہ لوگ ڈھیلا ڈھالا لباس پہنیں، دھوپ سے بچیں، چہرے پر پانی ڈالتے رہیں، جلد کے لئے سن اسکرین استعمال کریں، زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، کھڑی گاڑیوں میں بچوں یا بڑی عمر کے لوگوں کو نہ چھوڑیں اور ہر ممکن طریقے سے خود کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کریں۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ ظاہر ہے یہ تمام اقدامات مالی وسائل اور سہولتوں کی کمی کی بنا پر کراچی یا دوسرے شہروں میں قابل عمل نہیں۔ لیکن، اتنا ضرور ہے کہ بیشتر حفاظتی اقدامات بہرحال ممکن ہیں اور انھیں بہ آسانی اختیار کیا جاسکتا ہے۔

تاہم، پاکستان میں گرمی کی لہر سے بچنے کے لئے بظاہر کوئی ٹھوس اقدامات تو سامنے نہیں آئے، لیکن صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان بین السطور ایک دوسرے پر ذمہ داریاں ڈالنے کا مقابلہ شروع ہوگیا، جبکہ مقامی حکومتوں کا پہلے ہی ملک میں وجود نہیں۔

XS
SM
MD
LG