رسائی کے لنکس

وقت آگیا ہے کہ افغانستان کی یکجہتی، ترقی و تعمیر کو اولیت دی جائے: حکمت یار

  • خلیل بگھیو

جمعے کو اپنے خطاب میں، حکمت یار نے کہا کہ ''وہ لوگ جو بچیوں پر تیزاب پھینکنے کے مجرم ہیں، اُنھیں خدا کو جواب دینا ہوگا''؛ اور ''وقت آگیا ہے کہ امن کی راہ اپنائی جائے، اور افغانستان کی یکجہتی، ترقی اور تعمیر کو اولیت دی جائے''

بیس برس بعد، تقریباً 200 گاڑیوں اور مسلح افراد کے قافلے کے ہمراہ جمعرات کو حزب اسلامی کے سربراہ، گلبدین حکمت یار کابل پہنچے۔ اس سے قبل وہ گذشتہ ہفتے مشرقی افغانستان میں نظر آئے تھے، جب کہ ماضی میں وہ کہاں تھے، اس بارے میں کچھ واضح نہیں۔

کابل میں اُن کی رہائش افغان پارلیمان اور صدر اشرف غنی کی رہائش گاہ کے مغرب میں واقع ہے۔

ماضی میں اُنھوں نے سویت یونین کے خلاف مثالی جہاد کیا۔ بعدازاں، اسلامی نظام کے لیے جدوجہد کی؛ امریکہ کے خلاف جہاد کیا؛ طالبان کا جھنڈا اٹھایا، اور پھر وزیر اعظم بھی رہے۔

ماضی قریب میں حزب اسلامی نے حکومتِ افغانستان کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دستخط کیے، اور قومی یکجہتی پر مشتمل افغان حکومت کے ساتھی بنے۔

جمعرات کو کابل پہنچنے کے بعد، صدارتی محل میں ایک بڑے مجمعے سے خطاب کیا، جس میں اُنھوں نے افغان طالبان ساتھیوں کو امن کی اپیل کی۔ اُنھوں نے اپنے افغان طالبان کو ’’بھائی‘‘ قرار دیا اور اپنے لیے کہا کہ ’’میں مصالحت کار ہوں‘‘؛ جو ’’امن لاسکتا ہے‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ امن آنے کے اقدام سے غیر ملکی فوجوں کا افغانستان میں رہنے کا جواز ختم ہوجائے گا۔

جمعے کو اپنے خطاب میں، حکمت یار نے کہا کہ ''وہ لوگ جو بچیوں پر تیزاب پھینکنے کے مجرم ہیں، اُنھیں خدا کو جواب دینا ہوگا''؛ اور ''وقت آگیا ہے کہ امن کی راہ اپنائی جائے، اور افغانستان کی یکجہتی، ترقی اور تعمیر کو اولیت دی جائے''۔

جمعے کے روز کے اجتماع میں، صدر اشرف غنی، چیف اگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی کے علاوہ نامور جہادی راہنما عبدالرب رسول سیاف، کئی نامور شخصیات، اور طالبان رہنما بھی موجود تھے۔

واشنگٹن میں، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے متعلق نامور تجزیہ کار؛ ’سینٹر فور گلوبل پالیسی‘ کے سینئر فیلو؛ اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں شدت پسندی کے خلاف مطالعے سے وابستہ فیلو، کامران بخاری نے کہا ہے کہ حزب اسلامی کے سربراہ، گلبدین حکمت یار کی جانب سے افغان حکومت سے قربت کا مجموعی جنگ کی صورت حال پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، چونکہ، بقول اُن کے، ’’اُن کا دور گزر چکا‘‘۔

گلبدین کی کابل آمد کے بارے میں سوال پر، ’وائس آف امریکہ‘ کی اردو سروس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے، کامران بخاری نے کہا کہ حکمت یار ’’کھوٹے سکے کی مانند ہیں۔ وہ اصل ’اسٹیک ہولڈر‘ نہیں‘‘۔

ممنوعہ تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں ایک سوال پر، اُنھوں نے کہا کہ ’’جب تک پاکستان طالبان کو مجبور نہیں کرتا، کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔ یوں کہئیے کہ جب تک طالبان ایک پیج پر نہیں آتے، لیپا پوتی سے کوئی بات نہیں بنتی‘‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’’طالبان ہی سب سے بڑی طاقت ہیں، جب کہ داعش بھی اپنے پیر جما رہی ہے‘‘۔

حکمت یار کے بیانات کے بارے میں، اُنھوں نے کہا کہ ’’ایک رسم چل پڑی ہے کہ ہر شخص اپنی اہمیت کو بڑھا چڑھا پر پیش کرتا ہے‘‘۔ لیکن، بقول اُن کے، ’’یہ کوئی خلاف توقع حرکت نہیں ہورہی ہے‘‘۔

اُنھوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ماضی قریب میں سمجھوتا طے پانے کے بعد، ''پسِ پردہ ایک عرصے سے حکمت یار کا معاملہ چل رہا تھا، جسے افغان پریس پیش کرتا آیا ہے۔ اور، بالآخر، حکمت یار منظر عام پر آئے ہیں‘‘۔

کامران بخاری نے کہا کہ ''یوں لگتا ہے کہ 17 برس کی جنگ کے بعد، امریکہ تھک چکا ہے، ایسا نہ ہو کہ امریکہ خدا حافظ کرکے منظر سے نکل آئے''۔ اُنھوں نے اس بات پر شک کا اظہار کیا کہ ’’کوئی دھڑا حکمت یار کو مانے گا‘‘۔

ادھر، لندن سے پاک افغان امور کے معروف تجزیہ کار اور افغان نیوز ایجنسی، ’خبریال‘ کے سربراہ، میر ویس افغان نے بتایا ہے کہ جب گلبدین حکمت یار جیسے ’’دینی ذہن، تجربہ رکھنے والے اور حلیم الطبع بزرگ حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کریں، تو حکومت کے خلاف جہاد کا جواز باقی نہیں رہتا‘‘۔

’وائس آف امریکہ‘ کو انٹرویو میں، میر ویس نے کہا کہ گذشتہ 40 برس کے عرصے میں حکمت یار نے جہاد کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ حزب اسلامی کی جانب سے حکومت سے سمجھوتا طے کرنے کے بعد، اُنھوں نے طالبان کے خلاف بات ضرور کی ہے، لیکن ساتھ ہی طالبان کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ شدت پسندی چھوڑ کر امن کی کوششوں میں ہاتھ بٹائیں۔

میر ویس نے کہا کہ ''گلبدین حکمت یار کھل کر طالبان کے خلاف کمر بستہ ہوئے ہیں، اور اِسی طرح داعش کے دوست نہیں ہو سکتے‘‘۔

افغان تجزیہ کار نے کہا کہ جمعے کو حکمت یار نے ایک بڑے جلسے سے خطاب کیا، اور کہا ''تنظیم کے لحاظ سے اُن کی پارٹی ایک مانی ہوئی منظم جماعت ہے، جو ابھی تک ایک موثر طاقت رکھتی ہے''۔

ساتھ ہی، اُنھوں نے کابل میں گلبدین کو ملنے والے مثالی ’پروٹوکول‘ کا بھی ذکر کیا، اور اس امید کا اظہار کیا کہ ’’اُنھیں ایک ہمدرد، صلح پسند راہنما سمجھتے ہوئے، طالبان اُن کا ساتھ دیں گے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG