رسائی کے لنکس

پڑھائی میں بچوں کی مدد کرنا بڑی عمر کے افراد کی صحت کے لیے بہتر ہے: ماہرین


پڑھائی میں بچوں کی مدد کرنا بڑی عمر کے افراد کی صحت کے لیے بہتر ہے: ماہرین

پڑھائی میں بچوں کی مدد کرنا بڑی عمر کے افراد کی صحت کے لیے بہتر ہے: ماہرین

امریکہ میں ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جنہیں لکھنے پڑھنے کا شوق ہے۔ان میں ایسے ریٹائرڈ افراد بھی شامل ہیں جو اپنی زندگی بھر کی محنت اور علم کو رضاکارانہ طور پراپنے معاشرے کی بھلائی کے لئے استعمال کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرے کو کچھ واپس لوٹانے کا یہ احساس ان کی زندگی کو وہ مقصدیت دیتا ہے جو ان کی ذہنی اور جسمانی صحت، دونوں کے لئے فائدہ مند ہے۔

شینایا اینڈرسن واشنگٹن کے ایک سکول میں دوسری کلاس میں پڑھتی ہیں ۔ انہیں حساب اور انگریزی کے مضامین میں کچھ مدد کی ضرورت رہتی ہے۔

چنانچہ وہ ہفتے میں دو مرتبہ ایک باسٹھ سالہ رضاکار شرلی میکیل سے پڑھائی میں مدد لیتی ہیں۔

شرلی میکیل کہتی ہیں کہ مجھے پڑھانا بہت پسند ہے ، مجھے اس کے ذریعے کچھ واپس کرنے اور بچوں کے ساتھ رابطہ رکھنے کا موقعہ مل رہا ہے جو مجھے بہت پسند ہیں ۔

میکیل ملازمت کی جگہ پر امتیازی رویوں کی تفتیش کار کے طور پر امریکی حکومت سے ریٹائر ہوئی ہیں ۔جبکہ گلوریا پینڈلٹن کی عمر 65 سال ہے ۔وہ امریکی بحریہ میں کمپیوٹر سسٹمز پروگرامر تھیں ۔ وہ بھی واشنگٹن کے وٹمر ایلیمینٹری سکول کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے پڑھانا بہت اچھا لگتا ہے ۔ ایسے لگتا ہے کہ میں بھی بچوں سے کچھ سیکھ رہی ہوں ۔

میکیل اور پینڈلٹن ایکسپیرینس کورپس نامی پروگرام کا حصہ ہیں جو55 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو کم آمدنی والے گھرانوں کے بچوں کی تعلیمی استعداد بڑھانے میں مدد کرتا ہے ۔ اس پروگرام کے دو ہزار رضا کار ٹیوٹر امریکہ کے23 شہروں میں پرائمری سکول کے بچوں کو پڑھائی میں مدد دیتے ہیں ۔ کیتھ لین کے اس پروگرام میں ساڑھے تین سال سے حصہ لے رہی ہیں ۔

وہ کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے بچے پڑھائی میں انفرادی توجہ ملنے سے بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں ، اس پروگرام کی وجہ سے وہ اپنی کلاس سے آگے نکل جاتے ہیں ۔

کیتھ لین کہتی ہیں کہ وہ جو دیتی ہیں اس سے بہت زیادہ حاصل کرتی ہیں ۔ ارونگ ولسن کا بھی یہی خیال ہے۔ وہ اس پروگرام سے سات سال سے منسلک ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے اس پروگرام میں شامل ہونے سے بہت فائدہ ہوا ہے ۔ میرا دماغ ہر وقت مصروف رہتا ہے اور ہفتے میں تین دن یہاں آنے سے جسمانی ورزش بھی ہو جاتی ہے ۔

میری لینڈ بالٹی مور کی ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پروگرام میں شامل ہونے والے رضا کاروں کو اپنی ان کوششوں سے کچھ فائدہ بھی ہوا ہے۔

مشیل کارلسن جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے سینٹر آن ایجنگ اینڈ ہیلتھ کی معاون ڈائریکٹر ہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ ایکسپرئینس کورپ نامی اس پروگرام میں رضاکار کے طور پر کام کر کے ابتدائی طورپر یہ معلوم ہوا ہے کہ بچوں کو پڑھائی میں مدد دینے سے اور اپنے دماغ کو ریاضی کےمسئلے سلجھانے میں استعمال کرنے سے ان بزرگ افراد کے دماغ کا سامنے کا حصہ متحرک رہتا ہے اور اس کی وجہ سے بڑھاپے میں یادداشت کی خرابی یا الزائمر جیسے امراض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے ۔

کارلسن کہتی ہیں کہ دنیا بھر میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔ اور انہیں ایسے بچوں کے ساتھ منسلک کر کے، جنہیں مدد کی ضرورت ہو ، دو طرفہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہم آپ کو دوا کھانے کے لئے نہیں کہہ رہے ۔ ہم آپ کو ضرورت مند افراد کی مدد کے لئے کہہ رہے ہیں ، تاکہ آپ دوسروں کی مدد کرتے کرتے اپنی مدد بھی کریں ۔

اس پروگرام کے رضاکار کہتے ہیں کہ بچوں کو دیکھ کر اور انہیں پڑھائی میں مدد دے کر انہیں احساس ہوتا ہے کہ ابھی معاشرے کو ان کی ضرورت ہے ۔

XS
SM
MD
LG