رسائی کے لنکس

داعش کے خلاف لڑائی میں ’نظریاتی جنگ‘ زیادہ ضروری: سمینار


ہیرٹیج فاؤنڈیشن میں منعقدہ سیمنار

ہیرٹیج فاؤنڈیشن میں منعقدہ سیمنار

ڈنمارک کے رکن پارلیمان، نصیر قادر کا کہنا تھا کہ داعش کے خلاف زمینی کارروائی ضرور کی جائے۔ لیکن، بقول اُن کے، ’اس کی کامیابی مشکوک ہی رہے گی؛ جس کے مقابلے میں اسلام کے نظریاتی انقلاب کی ضرورت ہے، کیونکہ اسلام امن کا مذہب ہے اور وہ کسی شخص کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا‘

واشنگٹن کی معروف ریپبلکن تھینک ٹینک، ’ہیرٹیج فاؤنڈیشن‘ میں منعقدہ سیمنار کے شرکا کا کہنا ہے کہ داعش سے نمٹنے کے لئے زمینی جنگ سے زیادہ نظریاتی جنگ کی ضرورت ہے، اور یہ کہ عالم اسلام امن کا خواہاں ہے، جو کسی صورت مسلح انتہا پسندوں کی حمایت نہیں کرتا۔

سیمنار کا موضوع ’داعش اور اسلامی انتہا پسندی کے خلاف مسلمانوں کی آواز‘ تھا، جس میں مختلف ملکی اور غیر ملکی دانشوروں نے خطاب کیا۔

ڈنمارک کے رکن پارلیمان، نصیر قادر کا کہنا تھا کہ داعش کے خلاف زمینی کارروائی ضرور کی جائے۔ لیکن، بقول اُن کے، ’اس کی کامیابی مشکوک ہی رہے گی، جس کے مقابلے میں اسلام کے نظریاتی انقلاب کی ضرورت ہے، کیونکہ اسلام امن کا مذہب ہے اور وہ کسی شخص کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا‘۔

پاکسانی پارلیمنٹ کی سابق رکن، فرح ناز اصفہانی کا کہنا تھا کہ ’اسلام کا ماضی روشن ہے۔ لیکن، انتہا پسند اس روشن ماضی کو بھلا بیٹھے ہیں‘۔

بقول اُن کے، داعش کے لوگ، خواتین اور اقلیتوں کو سترہویں صدی کے دور میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں؛ حالانکہ موجودہ دور کا مسلمان اپنی طرز زندگی کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال چکا ہے‘۔

سیمنار میں امریکی صدر براک ااباما اور سعودی پالیسوں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

مقررین کے بقول، ’سعودی عرب دنیا بھر میں انتہا پسندوں کی مدد کرتا رہا ہے، جب کہ اس کا حلیف امریکہ انھیں روکنے کے لئے تیار نہیں‘۔

ان کے خیال میں، ’عرب اسپرنگ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سعودی عرب کے بادشاہ تھے؛ جب کہ اوباما انتظامیہ نے کبھی ان سے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے بات چیت نہیں کی‘۔

’اسلامک فورم آف ڈیموکریسی‘ کے صدر، ایم زاہدی جسر کا کہنا تھا کہ ’داعش کے نظریات کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کوئی نہیں جو اس کی حمایت کرتا ہو‘۔

’پرل پروجیکٹ‘ کی ڈائریکٹر، اسرا نعمانی نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں میں مسلمان دنیا بھر میں پہنچے ہیں، جنھیں جدید طرز زندگی کو اپنا لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اصلاح کے لئے متحد ہو کر دہشتگردوں کے خلاف اور امن کے لئے کام کرنا ہوگا‘۔

XS
SM
MD
LG