رسائی کے لنکس

حزب اسلامی کے نمائندوں کی افغان حکام سے ملاقات


حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حمکت یار (فائل فوٹو)

حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حمکت یار (فائل فوٹو)

گزشتہ ہفتے ہی سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار کی جماعت حزب اسلامی نے افغانستان کی حکومت سے امن مذاکرات میں شریک ہونے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

افغانستان میں شدت تنظیم حزب اسلامی کے نمائندوں نے افغان امن عمل کی کوششوں کے سلسلے میں افغان حکام سے ملاقات کی ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار کی جماعت حزب اسلامی نے افغانستان کی حکومت سے امن مذاکرات میں شریک ہونے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

اگرچہ طالبان تاحال اس عمل میں شامل نہیں ہوئے لیکن حزب اسلامی کی طرف سے اس عمل میں شمولیت کو قیام امن کی کوششوں کے سلسلے میں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق حزب اسلامی کے لوگوں نے افغان اعلیٰ امن کونسل کے عہدیداروں کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اُنھوں نے افغانوں کے درمیان مذاکرات کے سلسلے میں ابتدائی بات چیت میں حصہ لیا۔

جمعرات کو ہونے والی اس بات چیت میں کیا پیش رفت ہوئی اس بارے میں تاحال تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

افغانستان، پاکستان، امریکہ اور چین پر مشتمل چار ملکی گروپ کے گزشتہ ماہ ہونے والے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان براہ راست مذاکرات مارچ کے پہلے ہفتے میں ہو سکتے ہیں۔

لیکن تاحال اس بارے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے اور طالبان کے ترجمان نے ایک بیان میں اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک افغانستان سے تمام غیر ملکی فوجیں چلی نہیں جاتیں وہ اس عمل میں شامل نہیں ہوں گے۔

اُدھر چین کے سفیر سن ویدونگ نے جمعہ کو اسلام آباد میں ایک تقریب میں کہا کہ اُن کا ملک افغانستان میں امن کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور اس بارے میں کردار بھی ادا کر رہا ہے۔

​چین کے سفیر نے کہا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے لیے امن ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ اُنھوں نے افغان امن عمل میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں پاکستان اہم اور کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ افغان حکومت، طالبان اور دیگر گروپوں کے درمیان مذاکرات کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ چار ملکی گروپ میں شامل ممالک افغانستان، پاکستان، امریکہ اور چین نے طالبان اور دیگر مسلح گروہوں کو مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

نفیس ذکریا نے کہا کہ چار فریقی گروپ میں شامل تمام ممالک کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے اور اُن کے بقول اس مرحلے پر وہ صرف یہ بتا سکتے ہیں کہ کوششیں جاری ہیں اور چاروں ملک اپنے اپنے طور پر طالبان اور دیگر گروہوں کو براہ راست مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG