رسائی کے لنکس

’تمام فریقین کو شام کے تنازع سے علیحدہ رہنے کے لبنان کے مؤقف کا پاس رکھنا چاہیئے، اور یہ کہ وہ ایسے اقدامات سے دور رہنا چاہیئے جو لبنان کے لوگوں کو اِس جنگ میں الجھنے کی شہ دینے کا باعث بنیں‘

پیر کے روز امریکی صدر براک اوباما نے اپنے لبنانی ہم منصب سے ٹیلی فون پرگفتگو میں شام میں حزب اللہ کے ’سرگرم اور بڑھتے ہوئے کردار‘ پر تشویش کا اظہار کیا۔

اِس سے قبل، قصیر کےجنگی حکمتِ علمی والے قصبے میں جھڑپوں کے دوران اِس لبنانی دہشت گرد گروہ کے کم از کم 28جنگجو ہلاک ہوئے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مسٹر اوباما اور صدر مائیکل سلیمان نے اِس بات سے اتفاق کیا کہ تمام فریقین کو شام کے تنازع سے علیحدہ رہنے کے لبنان کے مؤقف کا پاس رکھنا چاہیئے، اور یہ کہ ایسے اقدامات سے باز رہنا چاہیئے جو لبنان کے لوگوں کو اِس جنگ میں جھونکنے کی شہ دینے کا باعث بنیں ۔

مسٹر اوباما نے لبنان کی سرحدیں کھلے رکھنے اور شام سے آنے والے پناہ گزینوں کو پناہ دینے کی پالیسی کو سراہا۔ اِس ضمن میں، اُنھوں نے امریکی حمایت جاری رکھنے کے عہد کا اظہار کیا۔

برطانیہ میں قائم ’سیرئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیر کے دِن ہونے والی حزب اللہ کے جنگجوؤں کی 18 ہلاکتوں کے علاوہ زخمیوں کی تعداد 70 بتائی گئی ہے۔

تصدیق ہونے کی صورت میں، یہ اب تک شام میں ہونے والی لڑائی کے دوران حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی سب سے بڑی تعداد ہوگی۔

شیعہ ملیشیا شام کے صدر بشار الاسد کی قریبی اتحادی ہے، جو شام کی اکثریتی سنی آبادی کی طرف سے اٹھنے والی بغاوت کا سامنا کر رہے ہیں۔ بغاوت کا مقصد مسٹر اسد کے علوی مسلک کی حکومتِ وقت کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔ علوی شیعہ مسلک کی ایک شاخ ہے۔
XS
SM
MD
LG