رسائی کے لنکس

ڈاکٹروں کے مطابق، ڈینگی کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، اور اس سے بچاو کی کوئی ویکسین بھی نہیں ہے

مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی بیماری ڈینگی پہ نظر رکھنے والے ادارے، ’ڈینگی سرویلینس سیل، سندھ‘ کے حکومتی ترجمان، ڈاکٹر شکیل ملک کا کہنا ہے کہ 2013ء میں پچھلے سالوں کے مقابلے میں ڈینگی کے واقعات زیادہ دیکھنے میں آئے ہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ یہ بیماری مچھروں کے ذریعے وائرس کے پھیلنے سے ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بیماری ستمبر، اکتوبر اور نومبر میں زیادہ دیکھنے میں آتی ہے۔ اس سال، اس بیماری کا زور ستمبر کے وسط سے لے کر نومبر کے وسط تک زیادہ تھا۔ لیکن، اب اس میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ غلط فہمی عام ہے کہ ڈینگی پھیلانے والا مچھر صرف صبح اور شام میں کاٹتا ہے۔ حالانکہ، یہ دوسرے اوقات میں بھی کاٹ سکتا ہے۔

اُن کے بقول، دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ یہ مچھر صرف صاف پانی میں پایا جاتا ہے۔ در حقیقت، یہ دوسرے پانیوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس مچھر کے انڈے ایک ایک سال تک بھی پڑے رہتے ہیں، اور جب ماحول سازگار ہو، تو یہ مچھر بن جاتے ہیں۔ اس لئے، ان مچھروں کی افزائش روکنے میں اس کے انڈوں کو ختم کرنے کے لئے خاص مچھلیوں، پودوں اور کیمیکلز کا استعمال کیا جا رہا ہے اور بڑے مچھروں کا خاتمہ کرنے کے لئے اسپرے کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر شکیل ملک نے کہا کہ ڈینگی سے نجات کے لئے گھروں، محلوں اور حکومتی سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے اور اس میں سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

’عالمی ادارہٴ صحت‘ کے مطابق، چار ایسے وائرس ہیں جو انسانوں میں ڈینگی کی وجہ بنتے ہیں۔

یہ بیماری انسان سے انسان کو براہ راست نہیں لگتی اور خاص مچھر کے کاٹنے کے تین سے 14 دن بعد اس بیماری کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، جن میں بخار، سر درد، آنکھوں کے پیچھے درد، پٹھوں اور جوڑوں میں درد اور جسم پہ نشانات شامل ہیں؛ جبکہ، شدید قسم کے ڈینگی میں پیٹ میں درد، الٹیاں، جسم کے مختلف مقامات سے خون کا بہنا اور سانس لینے میں مشکل شامل ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق، ڈینگی کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں ہے۔ اور اس سے بچاوٴ کی کوئی ویکسین بھی نہیں ہے۔

طبی ماہرین مزید کہتے ہیں کہ، اس سے بچاؤ کے لئے مچھروں سے بچا جائے اور عام طور پر اس مرض کے شکار مریض خود بخود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ مریضوں کو آرام، زیادہ پانی پینے اور بخار اور درد کی دوا تجویز کی جاتی ہے، جبکہ بہت کم مریض ایسے ہوتے ہیں جنھیں خون کو جمنے میں مدد دینے والے پلیٹیلٹس دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔
XS
SM
MD
LG