رسائی کے لنکس

'یونیورسٹی آف وائیومنگ' سے وابستہ ایک محقق اور ان کے ساتھیوں نے ایک مطالعاتی رپورٹ سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ 'نمک کی مقدار بلوغت کے آغاز کے لیے ضروری ہے۔ لیکن، نمک کی زیادتی تولیدی صحت کو متاثر کرتی ہے'

ایک نئےمطالعے سے پتا چلتا ہے کہ بچوں میں نمک کی زیادتی سے بلوغت کی عمر میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فاسٹ فوڈ کی صورت میں بچوں کی غذا میں نمک کے مواد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے،جس سے نئی نسل کی تولیدی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔

امریکہ میں 'یونیورسٹی آف وائیومنگ' سے وابستہ تفتیش کار ڈاکٹر دوری پتینسکی نے اپنی تحقیقات میں دیکھا کہ غذائی نمک کی مخلتف مقدار کھانے سے بلوغت کی عمر کیا ہوگی۔

سائنس ڈیلی کے مطابق، یہ مطالعہ 'یورپی کانگریس آف اینڈوکرینولوجی' ڈبلن میں پیش کیا گیا۔

چوہوں پر کی جانے والی اس تحقیق میں محققین نےچوہوں کو زیادہ مقدار میں نمک والی غذائیں کھلائیں, جو انسانوں کےلیےنمک کی تجویز کردہ یومیہ الاوئنس سے تین یا چار گنا زیادہ کے برابر تھی ۔

اس تجربے کے نتیجے میں سائنس دانوں نےکہا کہ جن چوہوں کی غذائیں زیادہ نمکین تھیں وہ دوسرے چوہوں کے مقابلےمیں بلوغت تک پہنچنے میں تاخیر کا شکار تھے۔

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ دلچسپ بات یہ تھی کہ جن چوہوں کی خوراک میں بالکل نمک نہیں تھا وہ بھی بلوغت میں تاخیر کا شکار ہوئے۔

ڈاکٹر پتینسکی اور ان کے ساتھیوں نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'نمک کی مقدار بلوغت کے آغاز کے لیے ضروری ہے۔ لیکن، نمک کی زیادتی تولیدی صحت کو متاثر کرتی ہے'۔

انھوں نے کہا کہ دیر سے بلوغت شروع ہونے کی وجہ سے بعض اوقات بچوں میں رویوں کے مسائل، جذباتی تناؤ اور تولیدی صلاخیت کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔

محققین کے مطابق، اب تک بچوں میں سن بلوغت کے حوالے سے چربی کی مختلف سطح کے اثرات پر تحقیقات کی گئی تھیں۔ لیکن، کسی نے بھی غذائی نمک کے اثرات پر نظر نہیں ڈالی تھی۔

بقول ڈاکٹر پتینسکی ہمارے مطالعے سے ظاہر ہوا کہ'' نمک کی ذیادتی اور زیادہ چکنائی والے کھانوں دونوں سے تولیدی صحت پر مخالف اثرات ظاہر ہوتے ہیں ''۔

انھوں نے کہا کہ چکنائی والی غذاؤں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بچوں میں بلوغت کے آغاز کو تیز کرتی ہیں۔ لیکن، ہمارے مطالعے میں اس بات کی نشاندھی ہوئی ہے کہ جن چوہوں کو زیادہ نمکین کے علاوہ زیادہ چربی والی غذائیں کھلائیں گئی تھیں وہ بھی سن بلوغت میں تاخیر کا شکار ہوئے۔

ڈاکٹر پتینسکی کا مزید کہنا تھا کہ نتائج میں پہلی بار اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ نمک کی مقدار کا زیادہ چکنائی والے کھانوں کےمقابلےمیں تولیدی صحت پر زیادہ اہم اثرات ہیں۔

عالمی ادارہٴصحت کی طرف سے دن بھر میں تقریباً 5 گرام (تقریبا ایک چمچہ) یومیہ الاونس کی سفارش کی ہے، جبکہ ادارے کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں آبادی اپنی جسمانی ضرورت کے مقابلے میں بہت زیادہ نمک استعمال کرتی ہے۔

نمک کا اہم جزو سوڈیم قدرتی طور پر مختلف اقسام کے کھانوں کی اشیاء میں پایا جاتا ہے، مثلاً دودہ، کریم اور انڈے اس کے علاوہ تیار شدہ اشیاء مثلاً ڈبل روٹی، اسنیک، مختلف سوس اور اسٹاک کیوبز میں بھی موجود ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG