رسائی کے لنکس

کراچی: مزار قائد سخت سیکیورٹی پہرے میں


فائل

فائل

پولیس کے مطابق، مزار قائد کی انتظامیہ کو نامعلوم کال موصول ہوئی تھی، جس کےبعد سیکورٹی کو سخت کیا گیا ہے

کراچی میں قائداعظم محمد علی جناح کے مزار کو دہشتگردوں کی جانب سے نقصان پہنچانے کے خدشے کے پیش نظر مزار پر سیکورٹی اہلکار تعینات کردئے گئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ بابائے قوم کے مزار تک آنے والے ارد گرد کے تمام روڈ بھی بند ہیں۔

پولیس کے مطابق، مزار قائد کی انتظامیہ کو نامعلوم کال موصول ہوئی تھی، جس کےبعد سیکورٹی کو سخت کیا گیا ہے۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ’سیکیورٹی خدشات کے باعث مزار پر کمانڈوز کو تعینات کردیا گیا ہے، جبکہ بابائے قوم کے مزار پر آنے والے شہریوں کو سخت تلاشی کےبعد اندر داخل ہونے دیا جائے گا۔ اور کسی قسم کا بیگ یا سامان لےجانے؛ اور مزار کے باہر کسی بھی گاڑی کو کھڑی ہونے کی اجازت نہیں ہوگی‘، جبکہ مزار کے باہر کی سڑکیں بھی سیکورٹی کے باعث بلاک کی گئی ہیں‘۔

گزشہ روز، مزار قائد کی ارد گرد ’ریڈ الرٹ‘ جاری کیا گیا تھا؛ اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے مزار سے ملحقہ تمام سڑکوں پر سیکیورٹی اہلکار تعینات کردئے گئے ہیں؛ جبکہ ان راستوں کو لوہے اور سیمنٹ کی عارضی رکاوٹیں لگا کر عام ٹریفک کیلئے بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے؛ جس کے باعث، شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کراچی کے ایک شہری نے مزار قائد سے ملحقہ روڈ بند ہونے پر ’وی او اے‘ سے گفتگو میں بتایا کہ ’سیکیورٹی کے نام پر گزرگاہوں کو بند کر دینا غلط ہے۔ اس سے شہری سخت پریشان ہورہے ہیں، جبکہ ایک راستہ بند ہونے سے متبادل راستوں سے گزر کر جانا پڑتا ہے‘۔

بقول اُن کے، 'ویسے ہی، کراچی کا ٹریفک نظام اتنا ناقص ہے۔ اوپر سے یہ سڑک بند ہونے سے پورے علاقے کا ٹریفک متاثر ہو رہا ہے‘۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر کسی نے کوئی دھمکی دی ہے تو بھی مزار قائد کے اندر ایسا انتظام ہونا چاہیئے کہ کوئی دہشتگرد وہاں تک نہ پہنچ پائے؛ جب کہ، دھمکیوں کے نام ہر سڑکوں کو بند کر دینا انتظامیہ کی نا اہلی ہے‘۔

ایک اور شہری کے مطابق، ’ہماری سیکورٹی ادارے دہشتگردی کو روکنے کیلئے سائنسی طریقہ کار سے محروم ہیں۔ دنیا میں اہم عمارتوں کی سیکیورٹی کیلئے جو طریقہ کار اختیار کیا جاتا یے، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے، کہ پاکستان میں اس کا تصور تک نہیں ہے‘۔

اُن کے الفاظ میں، 'ہمارے ہاں علاقوں اور سڑکوں کو بند کرنا ہی مسئلے کا حل سمجھا جاتا ہے، جس سے شہری ہریشان ہیں اور ٹریفک کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ ایک جگہ کی سیکورٹی کیلئے پورے علاقے کو بند کر دیا جاتا ہے‘۔

'انتظامیہ کو چاہئے کہ شہریوں کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے مزار قائد کی سیکورٹی بڑھائے۔ سڑکیں بند کردینے سے شہر کا اور پاکستان کا امیج خراب ہوتا ہے اور مسئلے کے حل کے بجائے دیگر مسائل پیدا ہوتے ہیں‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال کوئٹہ میں قائم قائداعظم محمد علی جناح کی رہائش گاہ 'قائد اعظم ریزیڈینسی' کو نامعلوم شر پسندوں کی جانب آگ لگا کر تباہ کیا گیا تھا، جہاں قائداعظم کی رہائش اور استعمال کی اشیا موجود تھیں۔ اس سانحے کے بعد سے کراچی کے 'وزیر مینشن'، جو قائد اعظم کی پیدائش کے حوالے سے تاریخی عمارت ہے، اس کی سیکورٹی بھی سخت کردی گئی تھی۔

مزار قائد کا شمار پاکستان کی اہم عمارات میں ہوتا ہے جو بابائے قوم کی آخری آرام گاہ ہے۔

مزار قائد پر فاتحہ خوانی کیلئے بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں، جبکہ مزار کے باہر وسیع و کشادہ پارک ہونے کے باعث مزار قائد شہریوں کیلئے تفریحی مقام بھی تصور کیا جاتا ہے۔
XS
SM
MD
LG