رسائی کے لنکس

صدارتی مباحثوں کا سیزن

  • جم ملون
  • واشنگٹن

انتظامات

انتظامات

تین صدارتی مباحثوں کے علاوہ، ایک مباحثہ موجودہ نائب صدر جو بائڈن، اور ریپبلیکن امیدوار پال رائن کے درمیان ہو گا

امریکہ کے صدارتی انتخاب کی مہم اب مباحثوں کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے ۔ تین مباحثوں کے سلسلے کا پہلا مباحثہ صدر براک اوباما اور ان کے ریپبلیکن حریف مٹ رومنی کے درمیان آج بدھ کے روز ہو گا۔

وائس آف امریکہ کے جِم میلون نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ، دونوں امید وار مباحثوں کی مشق کرتے رہے ہیں اور دونوں کی کوشش یہ ہے کہ ریاست کولوریڈو کے شہر Denver میں ہونے والے مباحثے سے لوگ زیادہ توقعات وابستہ نہ کر لیں۔

صدر اوباما نے ریاست نیواڈا میں اپنے حامیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا: ’گورنر رومنی بہت اچھے debater ہیں۔ میں بس ٹھیک ٹھاک ہوں‘۔

مسٹر رومنی نے مباحثے سے پہلے کولوریڈو میں آخری بار ایک انتخابی جلسے سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ، بات جیت اور ہار کی نہیں ہے ، نہ ان لوگوں کی ہے جو انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں، یعنی صدر اور میں۔ انتخاب کا تعلق ان باتوں سے کہیں زیادہ اہم چیز سے ہے ۔

سیاسی تجزیہ کار کہتےہیں کہ مباحثوں میں آتے وقت، مسٹر رومنی پر دباؤ زیادہ ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز کریں جس سے موجودہ سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو جائے ۔ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی سطح پر اور کئی اہم ریاستوں میں جہاں الیکٹورل ووٹوں کے لیے دونوں امید واروں کے درمیان سخت مقابلہ ہے ، صدر کو معمولی سی سبقت حاصل ہے ۔

Quinnipiac یونیورسٹی کے پولسٹر Peter Brown کو توقع ہے کہ صدر بہت محتاط رہیں گے تا کہ انہیں جو برتری حاصل ہے، وہ قائم رہے۔ اُن کے بقول، ’صاف ظاہر ہے کہ صدر کی پوزیشن بہتر ہے ۔ لہٰذا ان مباحثوں سے انہیں کچھ نہیں چاہیئے ۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ایسی چیز نہ ہو جس سے موجودہ حالت میں کوئی تبدیلی آئے‘ ۔

براؤن کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے مسٹر رومنی کی نظر میں یہ مباحثے اس مقابلے میں تبدیلی لانے کا آخری موقع ہوں۔ اُن کے الفاظ میں:’رومنی کے لیے ضروری ہے کہ کوئی تبدیلی آئے ۔ اگر مقابلہ برابر رہا تو پھر اس مباحثوںمیں جیت مسٹر اوباما کی سمجھی جائے گی۔ لہٰذا ، رومنی کو ان ووٹروں کو جو ان کے ساتھ نہیں ہیں، قائل کرنا ہے ، کہ وہ ان کا ساتھ دیں۔ انہیں ووٹوں کو بدلنا ہے کیوں کہ اگلے پانچ ہفتوں میں یہ تین مباحثے ہی ، موجودہ حالت کو تبدیل کرنے کا بہترین موقع ہیں‘۔

لیکن، رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے ووٹر پہلے ہی طےکر چکے ہیں کہ نومبر میں وہ کسے ووٹ دیں گے اور تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مباحثوں سے ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کہ انتخابی مہم پر کوئی بڑا اثر پڑے ۔

Allan Lichtman امریکن یونیورسٹی میں صدارتی تاریخ داں ہیں۔ اُن کے بقول، ’میرے خیال میں یہ خاصا پُر خظر کام ہے ۔ مباحثے انتخابات کے لیے ہمیشہ فیصلہ کن ثابت نہیں ہوتے ۔ 2004 میں جان کیری نے جارج ڈبلو بُش کے ساتھ ہونے والا ہر مباحثہ جیت لیا تھا ، لیکن وہ انتخاب پھر بھی ہار گئے‘ ۔

تاریخی اعتبار سے، ان مباحثوں میں بعض یادگار لمحے آئے ہیں ۔ 1980 میں ریپبلیکن رونلڈ ریگن اور صدر جمی کارٹر کے ساتھ صرف ایک مباحثہ ہوا جس میں ریگن نے ووٹروں سے ایک بنیادی سوال پوچھا :’کیا چار سال پہلے کے مقابلے میں آپ آج کل بہتر حالت میں ہیں؟‘
مباحثوں میں غلطیاں بھی مہنگی ثابت ہو سکتی ہیں ۔ 1976 میں صدر جیرالڈ فورڈ نے دعویٰ کیا کہ مشرقی یورپ سوویت روس کے زیرِ اثر نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ڈیموکریٹ جمی کارٹر کے ہاتھوں ان کی شکست میں ان کے اس دعوے کا بھی ہاتھ ہو۔ان کے الفاظ تھے:’مشرقی یورپ پر سوویت روس کا غلبہ نہیں ہے، اور نہ فورڈ انتظامیہ کے تحت، ایسا کبھی ہو گا‘۔

بعض اوقات جسمانی حرکات و سکنات بھی ووٹروں کے حافظے میں محفوظ ہو جاتی ہیں ، جیسے 2000 میں نائب صدر ایل گورکا جھنجھلاہٹ کے عا لم میں آہیں بھرنے کا منظر، یا 1992 کے مباحثے میں صدر جارج ایچ ڈبلو بش کا اپنی گھڑی پر نظر ڈالنا ۔

تین صدارتی مباحثوں کے علاوہ، ایک مباحثہ موجودہ نائب صدر جو بائڈن، اور ریپبلیکن امیدوار
پال رائن کے درمیان ہو گا۔
XS
SM
MD
LG