رسائی کے لنکس

میرے ای میل پیغامات منظرِ عام پر لائے جائیں: ہیلری کلنٹن


فائل

فائل

سابق وزیرِ خارجہ پر الزام ہے کہ وہ اپنے دورِ وزارت کے دوران سرکاری معاملات کے لیے خلافِ ضابطہ اپنا ذاتی ای میل اکاؤنٹ استعمال کیا کرتی تھیں۔

امریکہ کی سابق وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کے سرکاری ای میل پیغامات عوام کےمطالعے کے لیے جاری کردیے جائیں۔

ہیلری کلنٹن نے یہ بیان اپنے ای میل میسجز سے متعلق امریکہ میں پیدا ہونے والے تنازع کے جواب میں دیا ہے۔

سابق وزیرِ خارجہ پر الزام ہے کہ وہ اپنے دورِ وزارت کے دوران سرکاری معاملات کے لیے خلافِ ضابطہ اپنا ذاتی ای میل اکاؤنٹ استعمال کیا کرتی تھیں۔

ہیلری کلنٹن نے بدھ کی شب ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ سرکاری امور سے متعلق ان کی ای میلز عوام کے مطالعے کے لیے منظرِ عام پر لائی جائیں۔

سابق وزیرِ خارجہ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انہوں نے امریکی محکمۂ خارجہ سے ان ای میلز کو عوام کے لیے جاری کرنے کا کہا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ محکمۂ خارجہ نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ ان پیغامات کا جائزہ لینے کے بعد جلد از جلد انہیں منظرِ عام پر لے آئے گا۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہ ہیلری کلنٹن کی ای میل کا اسی معمول کے مطابق جائزہ لے گا جو سرکاری دستاویزات کے اجرا کے لیے ضروری ہے۔

سابق سیکریٹری کلنٹن کی جانب سے سرکاری رابطوں کے لیے ذاتی ای میل اکاؤنٹ کے استعمال کاا نکشاف گزشتہ سال امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کیا تھا۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اپنا ذاتی ای میل اکاؤنٹ استعمال کرکے ہیلری کلنٹن نے وفاقی دستاویزات سے متعلق امریکی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے جن کے تحت امریکی حکومت کے عہدیداران کی تمام خط و کتابت محفوظ کی جاتی ہے۔

اس انکشاف کے بعد امریکہ کے ایوانِ نمائندگان کی ایک کمیٹی نے – جو 2012ء میں لیبیا کے امریکی سفارت خانے پر شدت پسندوں کے حملے کی تحقیقات کر رہی ہے – واقعے سے متعلق سیکریٹری کلنٹن کے ای میل پیغامات کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

گزشتہ سال ہیلری کلنٹن اور ان کے عملے نے 50 ہزار صفحات پر مشتمل وہ ای میل پیغامات محکمۂ خارجہ کے حوالے کیے تھے جو سیکریٹری کلنٹن اپنی وزارت کے دوران اپنے ذاتی اکائونٹ سے کرتی رہی تھیں۔

ان دستاویزات میں سے لگ بھگ 300 صفحات بن غازی حملے سے متعلق ای میلز پر مشتمل تھے جو محکمۂ خارجہ نے کانگریس کی کمیٹی کو فراہم کردیے تھے۔

گزشتہ روز اپنی ایک رپورٹ میں امریکی خبر رساں ادارے 'دی ایسوسی ایٹڈ پریس' نے دعویٰ کیا تھا کہ ہیلری کلنٹن اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے کی جانے والی ان سرکاری ای میلز کے لیے جو ای میل سرور استعمال کر رہی تھیں وہ ان کے نیویارک میں واقع گھر میں موجود تھا۔

ذرائع ابلاغ کےمطابق ہیلری کلنٹن سے قبل بھی امریکی وزرائے خارجہ سرکاری رابطوں کے لیے ذاتی ای میل اکاؤنٹ استعمال کرتے رہے ہیں لیکن کسی وزیر کی جانب سے دورِ وزارت کے دوران اپنے تمام تر رابطوں کے لیے ذاتی اکاؤنٹ استعمال کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

XS
SM
MD
LG