رسائی کے لنکس

یلری کلنٹن کو ایک اہم پارٹی کی صدارتی نامزدگی حاصل کرنے والی پہلی خاتون کہا جاتا ہے۔ اس سے قبل2008 میں صدارتی انتخابات کے لیے ڈیمو کریٹک پارٹی سے نامزدگی حاصل کرنے کی مہم میں انہوں نے امریکی صدر باراک اوباما سے شکست کھائی تھی۔

اس منگل کو دنیا اس بات کی منتظر تھی کہ امریکہ کی طویل جمہوری تاریخ میں امریکی عوام پہلی بار ایک خاتون کو صدر منتخب کریں گےجبکہ دنیا کے بہت سے ممالک اس سنگ میل تک بہت پہلے پہنچ چکے ہیں لیکن, امریکی صدارتی انتخابات 2016 کے نتائج نےدنیا کو حیران کردیا ہے اور امریکہ نے ڈونالڈ ٹرمپ کو ملک کا 45 واں صدر منتخب کرلیا ہے۔

ایک عمومی تاثر تو یہی پایا جاتا ہے کہ امریکہ میں لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک عورت کو ایک دن امریکہ کا صدر ہونا چاہیئے،اس بات کا ثبوت یہ ہےکہ ہلری کلنٹن نے اپنےحریف امیدوار سینیٹر برنی سینڈرز کے مقابلےمیں اپنی جماعت کی جانب سے صدراتی نامزدگی حاصل کی تھی لیکن حتمی مرحلے میں ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ہلری کلنٹن صدرات کے لیے ایک قابل امیدوار تھیں انھیں ملک کی خاتون اول رہنے کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے اور دنیا بھر میں ایک کامیاب وزیر خارجہ کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں ان کے پاس تیس سالہ سیاسی تجربہ بھی تھا شاید اسی لیے توقع کی جارہی تھی کہ وہ 240 سالہ ملک کی تاریخ میں اقتدار تک رسائی حاصل کرنے والی پہلی خاتون ہوسکتی ہیں۔

مشیل اوباما اور ہلری کلنٹن

مشیل اوباما اور ہلری کلنٹن

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہےکہ اس انتخابات میں صنف کا عنصر بھی اہمیت حاصل کر گیا تھا اور امریکی عوام کو ناچاہتے ہوئے بھی یہ طے کرنا تھا کہ امریکہ کا صدر ایک عورت کو ہونا چاہیئے یا ایک مرد کو۔۔۔

حالیہ انتخابات کےحوالے سے سی این این کے ایک جائزے سے پتا چلتا ہے کہ امریکی سفید فام مرد اور خواتین کی اکثریت کا ووٹ ہیلری کلنٹن کےحق میں نہیں تھا 53۔فیصد امریکی سفید فام خواتین نے ری پبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے اپنا ووٹ دیا اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ نصف سے زائد سفید فام خواتین نے ایک مرد کے لیے اپنا ووٹ دیا ہے۔

لیکن ٹرمپ کے مقابلے میں ہلری کو سیاہ فام خواتین اور ہسپانوی خواتین کی زیادہ حمایت حاصل ہوئی۔

ناقدین کے مطابق امریکی خواتین میں ٹرمپ کی مضبوط حمایت سے ایسا لگتا ہے کہ ان میں سے زیادہ ترخواتین نسلی امتیاز کو ایک بڑا مسئلہ خیال نہیں کرتی ہیں یا پھر امریکی عوام خاتون صدر کے لیے اب تک تیار نہیں ہیں جہاں1920 میں انیسویں ترمیم کے ساتھ خواتین کو انتخابات میں ووٹ ڈالنےکا حق دیا گیا تھا۔

عالمی اقتصادی فورم کی 2010 کی ایک رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ گذشتہ نصف صدی میں 59 ممالک نےخواتین لیڈرز کو منتخب کیا ہے اور اس گروپ میں سری لنکا وہ پہلا ملک ہے جو اس سنگ میل تک پہنچاجہاں 1962 میں سروامو بنرا نائیکے ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں تھیں۔ دنیا کی پہلی خاتون صدر کا اعزاز ارجنٹینا نےحاصل کیا جہاں 1974میں ازابیل پیرون کو صدارت کے عہدے پر منتخب کیا گی جبکہ بینظیر بھٹو نے 1988 میں مسلم دنیا کی پہلی وزیر اعظم ہونے کا اعزاز حاصل کیا ۔

اس کے بعداگرچہ اقتدار میں خواتین کی تعداد میں 1990 تک آہستہ آہستہ اضافہ ہوا لیکن حالیہ دنوں میں خواتین نے دنیا کی قیادت میں اہم پیش رفت کی ہے اور بعض ممالک نے ایک سے زائد مرتبہ خاتون کو قیادت کے لیے منتخب کیا ہے اقوام متحدہ کے مطابق فی الحال 10 خواتین ملک کی سربراہ اور 9 خواتین حکومت کی سربراہان کےطور پرکام کررہی ہیں۔

تاہم امریکہ میں خاتون کی صدارت تک پہنچنے کا انتظار کافی طویل ہوگیا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کانچ کی چھت بہت زیادہ مضبوط ہےجسے توڑنا آسان نہیں ہوگا۔

مورخین اور مصنفین اس بات سے متفق ہیں کہ اس جدوجہد کا آغاز 144 برس قبل ہو گیا تھا جب اپنے ووٹ کا حق مانگنے کے لیے سفرا جیٹ نامی خواتین کی تحریک کی وکٹوریہ ووڈ ہل 34 برس کی عمر میں 1872 کے انتخابات میں بطور صدراتی امیدوار کھڑی ہوئی تھیں۔

ووڈ ہل کی ناکامی کے بعد خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن بیلوا لاک ووڈ نے 1884 کے انتخابات میں بطور صدارتی امیداوار کھڑی ہوئی اور ان کی ساتھی میرئیٹا اسٹو پہلی امریکی خاتون تھیں جو نائب صدارتی امیدوارکےطور پر کھڑی ہوئی تھیں۔

مورخین کے مطابق لگ بھگ ڈیڑھ صدی میں 31 امریکی خواتین نے صدر کے لیے اپنی پارٹی کی نامزدگی حاصل کی جبکہ دو خواتین نے ملک کی دو بڑی جماعتوں کی نائب صدارتی نامزدگی حاصل کی جیرالڈین فرارو نے 1984 کے انتخابات میں ڈیمو کریٹک کی طرف سے نائب صدارتی نامزدگی حاصل کی تھی جبکہ سارا پالن نے 2008 کے انتخابات میں ری پبلکن ملک کی طرف سے نائب صدر کے لیے نامزد ہوئی تھیں۔

تاہم یلری کلنٹن کو ایک اہم پارٹی کی صدارتی نامزدگی حاصل کرنے والی پہلی خاتون کہا جاتا ہے۔ وہ اس سے قبل2008 میں صدارتی انتخابات کے لیے ڈیمو کریٹک پارٹی سے نامزدگی حاصل کرنے کی مہم میں امریکی صدر باراک اوباما سے شکست کھائی تھی۔

ان کے مقابلے میں جل اسٹائن دومرتبہ 2012 اور 2016 میں ہونے والے انتخابات میں گرین پارٹی کی صدراتی امیدوار تھیں۔

منگل کے انتخابات سے پہلے گرین پارٹی کی امیدوار جل اسٹائن کو صدر کے لیے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا ریکارڈ حاصل تھا. انھوں نے 2012 میں ایک خاتون امیدوار کے طور پر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے تھے اور اب ہلری کلنٹن نے خاتون امیدوار کے طور پر ریکارڈ ووٹ حاصل کئے ہیں لیکن، امریکہ کا پہلی خاتون صدر کا خواب اب بھی ادھورا ہے۔

دوسری طرف موجودہ خاتون اول مشعل اوباما ایک ایسا نام ہے،جو اب امریکی عوام کی زبانوں پر ہے ان کی سوشل میڈیا پر مقبولیت کا اندازا اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ لوگ ہیش ٹیگ مشعل 2020 کا استعمال کرتے ہوئے انھیں مستقبل میں امریکہ کی خاتون صدر کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

دارالحکومت لندن کی رہائشی خوشنود احمد پاکستانی کمیونٹی کی ایک سرگرم سماجی کارکن اور ریور سائیڈ مسلم ایسوسی ایشن کی بانی ہیں انھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس صدارتی انتخاب میں دنیا بھر کی نظریں امریکہ کی طرف لگی ہوئی تھیں جہاں اب تک 44 مرد صدور نے حکومت کی ہے اور یقیننا سب یہ ہی چاہتے تھے کہ اس مرتبہ امریکہ جیسی بڑی طاقت کی قیادت ایک عورت کو ملے اور یہ دنیا کے لیے ایک اچھا پیغام ہوتا۔

انھوں نے کہا کہ ''امریکی عوام کا بھی وہی فیصلہ ہےجو برطانیہ میں بریگزٹ کے نام پر کیا گیا ہےجس کا اب بہت سے لوگوں کو پچھتاوا ہے بریگزٹ کی طرح امریکہ میں بھی لوگوں نے ایک نظریہ کو ووٹ ڈالا ہےکیونکہ یہ نعرہ سننے میں واقعی اچھا لگتا ہےکہ امریکہ یا برطانیہ میں سب کچھ پہلے جیسا اچھا ہوجائے گا۔''

خوشنود نے کہا کہ ''ایک خاتون کی حیثیت سے مجھے انتخابی نتائج سے مایوسی ضرور ہوئی ہے کیونکہ ہلری ایک منجھی ہوئی سیاست دان ہیں اور میرا نہیں خیال ہے کہ امریکی عوام نے ہلری کلنٹن کو ایک عورت ہونے کی وجہ سے مسترد کیا ہے لیکن میں اس بات پر بھی حیران ہوں کہ ٹرمپ کو امریکی خواتین کے زیادہ ووٹ ملے ہیں''۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG