رسائی کے لنکس

ہمالیہ کے گلیشیرز پگھلنے کی رفتار پر ماہرین میں اختلاف


ہمالیہ کے گلیشیرز پگھلنے کی رفتار پر ماہرین میں اختلاف

ہمالیہ کے گلیشیرز پگھلنے کی رفتار پر ماہرین میں اختلاف


ماحول کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور ماہرین اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو آئندہ چند عشروں میں اکثر گلیشیرز مکمل طورپر پگھل سکتے ہیں۔ مگر اب اقوام متحدہ کے آب و ہوا سے متعلق سائنس دانوں نے کہا ہے کہ ہمالیہ پر موجود گلیشیرز کے بارے میں کی جانے والی یہ پیش گوئی سائنسی لحاظ سے درست نہیں ہے کہ وہ 2035 تک مکمل طورپر پگھل جائیں گے۔

ہمالیہ کے گلیشیرز کے بارے میں 2007ء میں آب وہوا کی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے ایک بین الحکومتی پینل کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ان کے پگھلنے کی رفتار دنیا کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں زیادہ تیز ہے۔آئی پی سی سی کی تیار کردہ اس رپورٹ میں بتایا گیاتھا کہ یہ امکان موجود ہے کہ 2035ء یا اس سےپہلے ان گلیشیرز کی برف مکمل طورپر غائب ہوجائے گی۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹوں میں اس انکشاف کے بعد کہ اس پیش گوئی میں سائنسی شواہد سے مدد حاصل نہیں کی گئی تھی، آئی پی سی سی نے اس ہفتے کے شروع میں اپنے ایک بیان کے ذریعے یہ پیش گوئی واپس لے لی ہے۔

آئی پی سی سی پینل کے چیئر مین راجندرا پاچوری نے ہفتے کے روز اس پیش گوئی کو ایک افسوس ناک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا مروجہ طریقہ کار پر صحیح انداز میں عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہوا۔

ہمالیہ کے گلیشیرز کے مکمل طورپر غائب ہوجانے سے متعلق پیش گوئی اس طویل رپورٹ کا حصہ تھی جس نے آب وہوا کی تبدیلیوں پر بحث مباحثوں کی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

آئی پی سی سی کی اس پیش گوئی کا ماخذ بظاہر 2005ء میں وائلڈ لائف فنڈ کی شائع ہونے والی ایک رپورٹ تھی۔ڈبلیو ڈبلیو ایف نے یہ رپورٹ 1999ء میں چھپنے والے ایک رسالے کے ایک مضمون کی بنیاد پر تیار کی تھی۔ مذکورہ مضمون ایک بھارتی سائنس دان کے ساتھ ٹیلی فون پر کیے جانے والے ایک انٹرویو پر مبنی تھا۔

اس ہفتے کے شروع میں ماحولیات کے بھارتی وزیر جے رام رمیش نے کہاتھا کہ ہمالیہ کے گلیشیرز پگھل رہے ہیں ، لیکن جس رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ 2035 ء تک غائب ہوجائیں گے، سائنسی شواہد پر مبنی نہیں ہے۔

پچھلے سال کئی سائنس دانوں نے اس بارے میں اپنے شبہات کا اظہار کیاتھا کہ ہمالیہ کے گلیشیرز آئندہ چند عشروں میں پگھل جائیں گے۔ یہ گلیشیرز قطبین سے باہر واقع برف کی سب سے بڑی تہہ ہے۔

آئی پی سی سی کے چیئر مین پاچوری نے تاہم یہ کہا ہے کہ اس اختلاف کے باعث ، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ماحول کے درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے، دنیا کے دوسرے حصوں کی طرح ہمالیہ کے گلیشیرز بھی پگھل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ رپورٹ کی تیاری میں واقع ہونے والی غلطی سے یہ بڑی حقیقت تبدیل نہیں ہوگی کہ انسان کے ہاتھوں آب و ہوا میں تبدیلیاں آرہی ہیں۔

آب و ہوا کی تبدیلیوں پر بین الحکومتی پینل نے دنیا کی توجہ عالمی حدت کے مسئلے کی جانب مبذول کرنے پر 2007ء کے نوبیل انعام میں شراکت کی تھی۔لیکن عالمی حدت کے نظریے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس فاش غلطی کی وجہ سے اقوام متحدہ کے اس ادارے کی اعتمادیت کو نقصان پہنچا ہے۔

XS
SM
MD
LG