رسائی کے لنکس

پشاورمیں ہندو اور سکھ برادری سراپا احتجاج

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

آسامی گیٹ شہر کا ایک تاریخی مقام ہے جہاں ہندوؤں کے دو مندر اور سکھوں کا ایک گردوارہ واقع ہے جب کہ ایک درجن کے لگ بھگ دکانیں اور 37 رہائشی عمارتیں بھی اس علاقے کا حصہ ہیں۔

پشاور کے وسطی علاقے میں ہندوؤں اور سکھوں کی عبادت گاہوں کو مبینہ طور پر مسمار کرنے کی کوشش کے خلاف ہفتہ کو ہندو اور سکھ برادری کے لوگوں نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

آسامی گیٹ شہر کا ایک تاریخی مقام ہے جہاں ہندوؤں کے دو مندر اور سکھوں کا ایک گردوارہ واقع ہے جب کہ ایک درجن کے لگ بھگ دکانیں اور 37 رہائشی عمارتیں بھی اس علاقے کا حصہ ہیں۔

مظاہرے کی قیادت کرنے والے ہندو برادری کے ایک سرکردہ رہنما ہارون سربدیال کا کہنا تھا کہ شہر میں مقیم ہندو برادری یہیں سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ کسی اور ملک سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئی لیکن ان کے بقول غیر مسلم برادری کے حقوق کو مبینہ طور پر پامال کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں تقسیم ہند کے بعد غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی دیکھ بھال اور نگرانی کے لیے متروکہ وقف املاک بورڈ قائم کیا گیا تھا۔ ہارون سربدیال نے دعویٰ کیا کہ یہ بورڈ مبینہ طور پر اپنے تحویل میں موجود عمارتوں کو تجارتی مقاصد کے لیے سرمایہ کاروں کو فروخت کر رہا ہے۔

تاہم بورڈ کے ایک عہدیدار تسکین اللہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آسامائی گیٹ میں تعمیر نو اور بحالی کے لیے کام شروع کیا گیا تھا نا کہ اسے مسمار کرنے کے لیے۔

پاکستان میں مقیم غیر مسلم آبادی کی طرف سے اکثر اپنی عبادت گاہوں کی مناسب دیکھ بھال نہ کرنے پر عہدیداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے لیکن وفاقی و صوبائی حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ غیر مسلموں کے آئینی حقوق کی پاسداری کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں سال ہی پشاور میں سکھوں کی ایک قدیم عبادت گاہ کو بحالی کے بعد اس برادری کے حوالے کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG