رسائی کے لنکس

ہندو مت میں ’اوم‘ کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ہر کام شروع کرنے سے پہلے ’اوم‘ پڑھا جاتا ہے۔ رمیش وانکوانی کے بقول،’’اب اگر یہی لفظ محض جوتوں کی سیل بڑھانے کے لئے کوئی اسے سینڈلز پر لکھ لے تو ہم احتجاج تو کریں گے ہی‘‘

پاکستان کی سب سے بڑی اقلیت ’ہندو برادری‘ مقامی کمپنی کی تیار کردہ متنازع سینڈلز کی فروخت پرناصرف سراپا احتجاج ہے، بلکہ اس میں غم و غصہ بھی ہے۔

تنازع کا اصل سبب سینڈل پر لکھا وہ لفظ ہے جسے ہندو مت میں نہایت مقدس تصور کیا جاتا ہے ۔۔۔یعنی ’اوم‘۔

رکن پارلیمنٹ اور پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے پیر کو ’وائس آف امریکہ‘ سے خصوصی گفتگو میں بتایا ’’ہندو مت میں ’اوم‘ کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ہر کام شروع کرنے سے پہلے ’اوم‘ پڑھا جاتا ہے خواہ شادی کے منتر ہوں یا گیتا پڑھی جائے ’اوم‘ پڑھنا لازمی ہے۔ دیوالی اور دیگر تہواروں پر بھی اسے پڑھا جاتا ہے۔ ‘‘

رمیش وانکوانی کے بقول،’’اب اگر یہی لفظ محض جوتوں کی سیل بڑھانے کے لئے کوئی اسے سینڈلز پر لکھ لے، تو ہم احتجاج تو کریں گے ہی۔‘‘

رمیش وانکوانی نے انکشاف کیا کہ ’’پچھلے تین سال سے عید کے موقع پر یہ عمل دہرایا جاتا ہے۔ اس کے خلاف اسٹیٹ کو کاروائی کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اقلیتی برادریوں کے حقوق کی حفاظت کی ذمے داری اسٹیٹ کی ہی ہوتی ہے۔ لیکن، مجھے افسوس ہے کہ کبھی بھی معاملے کی جڑ تک نہیں پہنچا جاتا۔‘‘

انہوں نے اپنی بات کی تائید میں کہا کہ ’’آج مجھے بتایا گیا کہ جس دکان پر وہ سینڈلز فروخت ہو رہے تھے اس کے مالک کو ہم نے گرفتار کرلیا ہے۔ لیکن میں مطالبہ کرتا ہوں کہ سینڈلز کے ڈسٹری بیوٹرز کے خلاف کاروائی کی جائے۔ اس فیکٹری پر پابندی لگائی جائے جس نے اسے تیار کیا یا ڈیزائن کیا۔ فیکٹری یا اسے تیار کرنے والے کارخانے پر توہین مذہب کے قانون کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہئے ْ جب تک ایسا نہیں ہوگا بار بار یہ عمل دہرایا جاتا رہے گا۔‘‘

رمیش وانکوانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسٹیٹ کی طرف سے ناصرف ایسے واقعات روکنے کے قانون کے تحت کاروائی کی ضرورت ہے، بلکہ اس واقعے کی بھرپور انداز میں مذمت کی جانی چاہئے۔

اُن کے الفاظ میں، ’’میں چاہتا ہوں جیسے مریم نواز شریف صاحبہ نے مذمتی بیان دیا ہے اسی طرح کا بیان بلاول بھٹو زرداری، سراج الحق اور مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے بھی آنا چاہئے ورنہ ایسے واقعات کے ذریعے دنیا کو غلط پیغام جارہا ہے۔ اس کے خلاف اسٹیٹ کو ایکشن لینا ہوگا۔‘‘

پاکستان ہندو کونسل کا الزام ہے کہ متنازع سینڈلز فروخت کرنے والی کمپنی کی 14 شاخیں ہیں جہاں پچھلے تین سال سے یہ سینڈلز فروخت کئے جارہے ہیں۔ کونسل نے سینڈلز کی فروخت کو پاکستان میں رہنے والے لاکھوں ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

دوسری جانب، ایک اور اقلیتی تنظیم آل پاکستان ہندوپنچایت نے متنازعہ سینڈلز کی فروخت کی مذمت کی ہے اورجوتوں کی فروخت روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس حوالے سے کراچی میں ہندو برادری کی بڑی تعداد نے جوتے بنانے والی کمپنی کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا اورحکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں اور ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے۔

XS
SM
MD
LG