رسائی کے لنکس

’ہندو میرج ایکٹ، ہندووٴں کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا ہر ملک کو شادی کی رجسٹریشن کے لئے اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی کی بنیاد پر میرج اتھارٹی قائم ہوتی ہے جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ فلاں لڑکی کی فلاں لڑکے سے ہندورسم و روائج کے تحت شادی ہوئی ہے‘

آپ نے بالی ووڈ کی بہت سی ایسی فلمیں دیکھی ہوں گی جن میں پسند کی شادی کرنے والوں کو اکثر صرف ’اگنی کو ساکھشی مان کر‘ شادی کرتے دکھایا جاتا ہے۔

اس بات پر آپ کو بہت حیرانی بھی ہوتی ہوگی اور شاید آپ نے کسی نا کسی سے اس بارے میں تبادلہٴخیال بھی کیا ہوگا کہ محض ’آگ کو گواہ بنا کر‘ یا ’اس کے گرد چکر لگا کر‘ یا پھر صرف ’مانگ میں سندھور بھر کر‘ بھلا کس طرح ایک لڑکا اور لڑکی شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں، جبکہ اس شادی کا کوئی انسان گواہ بھی نہیں ہوتا۔۔؟ نہ ہی کہیں یہ شادی رجسٹرڈ ہوتی ہے، نا اس کی کوئی قانونی دستاویز ہوتی ہے۔

ہے نا چونکا دینے والی بات! ہو سکتا ہے آپ کہیں کہ ایسا صرف فلموں میں ہوتا ہے ۔۔۔ لیکن پاکستان میں رہنے والی ہندو برادری کا کہنا ہے کہ ایسا حقیقت میں بھی ہوتا ہے۔۔۔!

قومی اسمبلی میں ن لیگ کے اقلیتی رکن رمیش کمار ونکوانی

قومی اسمبلی میں ن لیگ کے اقلیتی رکن رمیش کمار ونکوانی

قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ ن کے اقلیتی رکن اور پاکستان ہندو کونسل کے پیڑن انچیف رمیش کمار ونکوانی کہتے ہیں: ’پاکستان میں 68 سال ہوگئے۔ آج تک ہندو میرج ایکٹ نہیں بنا۔ کیوں نہیں بنا؟ یہ آپ ہی نے نہیں سپریم کورٹ بھی مجھ سے پوچھ چکی ہے۔ 9 فروری 2014ء کو سپریم کورٹ نے مجھے طلب کیا اور یہی سوال دہرایا۔ اس پر میرا جواب یہ تھا کہ میں بار بار اسمبلی میں یہ بل پیش کرتا ہوں مگر ابھی تک بھی بات آگے نہیں بڑھی۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد ہندو میرج ایکٹ صوبائی معاملہ ہوگیا ہے۔ لیکن اگر ہر صوبہ الگ الگ میرج ایکٹ بنائے گا تو بہت مشکل ہوجائے گی۔‘

رمیشن وانکوانی کا ’وائس آف امریکہ‘ سے خصوصی بات چیت میں یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہندو میرج ایکٹ، ہندووٴں کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا ہر ملک کو شادی کی رجسٹریشن کے لئے اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی کی بنیاد پر میرج اتھارٹی قائم ہوتی ہے جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ فلاں لڑکی کی فلاں لڑکے سے ہندو رسم و روائج کے تحت شادی ہوئی ہے۔‘

رمیش کمار وانکوانی نے امید ظاہر کی ہے کہ اگلے کچھ مہینوں میں ہندو برادری کے لئے میرج ایکٹ باقاعدہ تشکیل پا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے دو مرتبہ اس حوالے سے ملاقات کرچکے ہیں۔ وزیراعظم خود اس بات کے متمنی ہیں کہ ہندو میرج ایکٹ سمیت اقلیتوں کے تمام مسائل جلد حل ہوجائے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’شادی کے لئے لڑکی اور لڑکے کی عمر اٹھارہ سال ہونی لازمی ہے۔ چاہے وہ اپنے مذہب میں شادی کرے یا وہ مذہب تبدیل کرکے کسی اور مذہب میں کرے۔ اٹھارہ سالہ سے کم عمر لڑکی کسی بھی مذہب میں شادی نہیں کرسکتی۔ اور اگر شادی شدہ ہے تو وہ پہلے شوہر سے علیحدگی کے بغیر دوسری شادی نہیں کر سکتی۔ اس طرح مذہب کی جبری منتقلی کو بھی بریک لگ جائیں گے۔‘

بقول اُن کے، ’ہمارے لئے رجسٹریشن کا پروسیس بھی بہت لمبا ہے۔ نادرا سے شناختی کارڈ بنواتے وقت، باہر جاتے وقت رجسٹریشن میں بہت وقت لگتا ہے۔ پھر ہندو برادری کو ہر کام کے لئے پاکستان ہندو کونسل سے دستاویزات ویری فائی کروانا پڑتی ہیں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ ایسے ایشوز کا یونین کونسل میں حل ہونا چاہئے۔ میرج اتھارٹی ڈسٹرکٹ میں بنے گی تو یونین کونسل ڈسٹرکٹ میں خود بخود رجسٹریشن مل جائے گی۔ ایک تو شادی رجسٹرڈ ہوجائے گی دوسرے اٹھارہ سال سے کم عمر بچی کسی اور مذہب میں شادی بھی نہیں کرسکے گی۔ اس سے فورس کنورژن بھی رک جائے گا ورنہ سترہ، سترہ سال کی نابالغ بچیوں کا جبری مذہب تبدیل کرا دیا جاتا ہے۔ اسے روکنے کے لئے میرج ایکٹ، میرج رجسٹریشن سر ٹیفکیٹ اور میرج ایکٹ کا ہونا نہایت ضروری ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ میرج بل اسمبلی میں پیش ہوچکا ہے، کابینہ میں زیر بحث لایا جاچکا ہے اور فی الوقت اسٹینڈنگ کمیٹی کے روبرو ہے۔ ورکنگ رکی ہوئی ہے۔ کسی صوبے نے اس پر قرار داد پیش نہیں کی ۔ جب تک قرارداد نہیں آجاتی اسے چاروں صوبوں میں نافذ نہیں کیا جاسکتا۔‘

بقول اُن کے، ’میں چاروں صوبوں سے رابطے میں ہوں اور فورس کر رہا ہوں کہ اس پر کہیں سے قرار داد آجائے۔ آج کل بجٹ سیشن چل رہا ہے، اس کے بعد رمضان ہیں۔ اگست میں جاکر کہیں یہ ہوسکے گا۔ وزیراعظم صاحب سے میں نے دو مرتبہ کہا ہے کہ اس کو آپ دیکھیں ۔ انہیں نے بھی یقین دلایا ہے کہ مسئلہ جلد حل ہوجائے گا۔ میری کوشش ہے کہ ہندو مینارٹیز کے جتنے بھی مسائل ہیں وہ میں اپنی گورنمنٹ کے ہوتے ہوئے حل کروا لوں۔‘

قومی اسمبلی کے بعد سندھ اسمبلی کی بات کریں تو یہاں اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر دس کے قریب ارکان نمائندگی کے لئے موجود ہیں۔ لیکن میرج رجسٹریشن کے سلسلے میں ان کی کوششیں کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئیں۔ ہندومیرج ایکٹ کے متعدد ڈرافٹ سندھ اسمبلی میں پیش ضرور ہوئے لیکن ان میں سے ایک بھی وفاقی حکومت یا کابینہ کو منظوری کے لئے نہیں بھیجا گیا۔

سندھ اسمبلی کے سابق رکن پتامبر سیہوانی نے2012ء میں ہندو میرج رجسٹریشن بل سندھ اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ لیکن، 2013ء کے انتخابات کے بعد نئی حکومت بنتے ہی اس بل کو سرد خانے کی نظر کر دیا گیا۔

ہندو میرج ایکٹ نہ ہونے کے نقصانات
میرج سر ٹیفکیٹ نہ ہونے کے ایک نہیں کئی اہم نقصانات ہیں۔ مثال کے طور پر:

۔ بغیر قانونی سر ٹیفکیٹ شادی کے ہونے یا نہ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔

۔ شادی شدہ افراد اپنی فیملی کے ساتھ ملک سے باہر جانا چاہیں تو وہ دستاویزی ثبوت کے طور یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ ساتھ جانے والی خاتون ان کی بیوی ہی ہے۔

۔ متعدد سرکاری اور غیر سرکاری و غیرملکی اداروں اور کمپنیوں میں میرج سر ٹیفکیٹ طلب کیا جاتا ہے لیکن ہندوبرادری یہاں بھی تہی دست دکھائی دیتی ہے۔

۔ شوہر سے علیحدگی کی صورت میں بیوی کے پاس یہ تک بتانے کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا کہ اس کی بچوں کے باپ سے شادی ہوئی بھی تھی یا نہیں۔

۔ پاکستان میں ہندو جوڑے صرف عدالت کے ذریعے ہی طلاق لے سکتے ہیں اور دوبارہ شادی نہیں کرسکتے۔

XS
SM
MD
LG