رسائی کے لنکس

پاکستان میں ہولی کے رنگ، ہلہ گلہ اور موج مستی


اس بار واہگہ بارڈر سے سندھ کے صحرائی علاقے تھر سے ملتی پاک بھارت سرحد تک ہولی کے رنگ کچھ اس طرح بکھرے کہ سب ہی ان رنگوں میں نہاتے محسوس ہوئے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہندو برادری نے جمعرات کو ہولی کا تہوار پورے جوش و جذبے کے ساتھ منایا۔ اس بار یہ تہوار کئی حوالوں سے قابل دید رہا۔

اس بار واہگہ بارڈر سے سندھ کے صحرائی علاقے تھر سے ملتی پاک بھارت سرحد تک ہولی کے رنگ کچھ اس طرح بکھرے کہ سب ہی ان رنگوں میں نہاتے محسوس ہوئے۔

سندھ حکومت نے پورے صوبے میں پہلی مرتبہ ہولی پر عام تعطیل کا اعلان کیا تو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ہولی منانے عمر کوٹ جا پہنچے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے بارے میں شنید ہے کہ انہوں نے بھی ہولی کے جشن میں شرکت کی۔

ٹائمز آف انڈیا کا کہنا ہے کہ واہگہ بارڈر پر دونوں ممالک کے نگہبانوں نے ایک دوسرے کو مٹھائی پیش کی۔

ادھر ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک، دو نہیں متعدد جگہوں پر ہولی کھیلی گئی۔ شاید ایسا بھی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ کراچی پریس کلب میں، کلفٹن کے ساحل پر، سوامی نارائن مندر ایم اے جناح روڈ پر، شری پنج مکھی ہنومان مندر میں، رتنیشور مندر اور شہر کے دیگر چھوٹے بڑے مندروں میں بھی بلاخوف و خطر ہولی منائی گئی۔

سب سے بڑا اجتماع بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کراچی کے سوامی نارائن مندر میں ہوا جہاں لوگوں نے مٹھائی تقسیم کی، تحفے بانٹے اور ایک دوسرے پر رنگ پھینکے، چہرے پر گلال لگایا، ہلہ گلہ کیا اور موسیقی کی دھن پر ہولی کے گیت گائے۔ تقریب میں مرد عورت، بچے بوڑھے نوجوان غرضیکہ ہر عمر کے لوگوں نے شرکت کی۔

رپورٹ سے منسلک ویڈیو میں اس رنگا رنگ تقریب کی جھلکیاں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔

ہولی کا تہوار موسم گرما کی آمد پر مارچ کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔ روایات کے مطابق بھگوان کرشن کی جائے پیدائش بھارتی شہر ’متھرا‘ میں مسلسل 16 روز تک ہولی جاری رہتی ہے جبکہ ریاست راجستھان میں ہولی کے موقع پر لتھ مار ہولی بھی کھیلی جاتی ہے۔ اس موقع پر خواتین لاٹھی اٹھائے ہوئے ہوتی ہیں اور ایک دوسرے سے اس کا مقابلہ بھی ہوتا ہے جبکہ مقابلے کے وقت بھی خواتین ساڑھی کے لمبے لمبے پلووٴں سے چہرے پر نقاب ڈالے رکھتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG