رسائی کے لنکس

ہیروشیما کے میئر کازومی ماٹسوئی نے دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے کی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جنہیں انہوں نے ’’خالص شر‘‘ قرار دیا۔

جاپان میں امریکہ کی جانب سے ہیروشیما پر بم گرائے جانے کی 70ویں برسی منائی جا رہی ہے، جس کے باعث دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا۔

جمعرات کو لاکھوں افراد نے دھماکے کے مرکز کے قریب واقع پیس میموریل پارک میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ اس دوران پارک میں گھنٹیاں بجائی گئیں۔

ہیروشیما کے میئر کازومی ماٹسوئی نے دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے کی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جنہیں انہوں نے ’’خالص شر‘‘ قرار دیا۔

’’ہمیں اکٹھا رہنے کے لیے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خاتمہ کرنا ہو گا، جو غیر انسانی ہونے کی آخری حد ہیں، جو خالص شر ہیں۔‘‘

وزیر اعظم شنزو ایبے نے کہا کہ ایٹمی حملے کا شکار ہونے والے دنیا کے واحد ملک کی حیثیت سے جاپان منفرد ذمہ داری رکھتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا تعمیر کرے۔

’’اس عزم کے تحت ہم اس خزاں اقوام متحدہ میں جوہری تخفیف اسلحہ کی ایک نئی قرارداد پیش کر رہے ہیں۔‘‘

ہیروشیما پر بمباری سے 140,000 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان میں سے کچھ فوراً ہلاک ہوئے اور باقی تابکاری سے جلنے کے کچھ دیر بعد ہلاک ہو گئے تھے۔

ہیروشیما پر حملے کے تین دن بعد ایک اور بم ساحلی شہر ناگاساکی پر گرایا گیا جس سے لگ بھگ 70,000 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ حملے دوسری جنگ عظیم کے جلد خاتمے کے لیے ضروری تھے۔ ناگاساکی پر حملے کے چھ دن بعد جاپان نے اپنے ہتھیار ڈال دیے جس سے جنگ ختم ہو گئی۔

ہیروشیما میں ہونے والی تقریب میں جاپان میں امریکہ کی سفیر کیرولائن کینیڈی، امریکہ کی انڈرسیکرٹری برائے اسلحہ پر کنٹرول و عالمی سلامتی روز گوٹموئلر کے علاوہ سو سے زائد ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

یہ برسی ایسے وقت ہوئی جب جاپان جوہری توانائی کے استعمال پر بحث اور ملک کی افواج کا کردار وسیع کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

سخت گیر وزیراعظم ایبے 2011 میں فوکوشیما زلزلے کے بعد بند ہونے والے ملک کے جوہری ری ایکٹرز کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ متعدد سکیورٹی بل بھی منظور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں جن کے تحت جنگ عظیم دوم کے بعد پہلی مرتبہ جاپان کے فوجیوں کی لڑائی میں شرکت ممکن ہو سکے گی۔

ہیروشیما کے میئر ماٹسوئی نے جمعرات کو ہونے والی تقریب میں ایبے کے سکیورٹی منصوبوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رہنماؤں کو ’’جاپان کے آئین کی امن پسندی‘‘ کی پاسداری کرنی چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG