رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر میں آثارِقدیمہ شکست و ریخت کا شکار

  • روشن مغل

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں برصغیرکی تقسیم سے قبل بڑی تعداد میں سکھ اور ہندو آباد تھے جن کی عبادت گاہیں آج بھی بعض علاقوں میں موجود ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تاریخی ورثہ زبوں حالی کا شکار ہے اورصدیوں قبل تعمیر ہونے والے قلعے، عبادت گاہیں اور بارہ دریاں مرمت اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا سامنا کر رہے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد اور دیگر علاقوں بشمول میرپور، بھمبر، کوٹلی، نیلم ویلی اور پلندری میں صدیوں پرانے قلعے اور مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہیں موجود ہیں جن میں سے بیشتر فنڈز کی کمی یا متعلقہ حکام کی غفلت کے باعث شکست وریخت کا شکار ہیں۔

ان آثارِ قدیمہ کی بحالی کے لیے تاحال کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا جا سکا۔

سترہویں صدی میں مظفرآباد میں تعمیر ہو نے والے دو قلعے 2005ء کے زلزلے میں شدید متاثر ہوئے تھے۔ لیکن ان قلعوں کی مرمت ایک عشرے سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود بھی اب تک نہیں ہو سکی۔

پاکستانی کشمیر کے محکمۂ سیاحت و آثارقدیمہ کے سیکرٹری منصورقادر ڈار نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں قابلِ مرمت تاریخی اثاثوں کی نشاہدہی کے لیے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایاکہ دارالحکومت مظفرآباد میں دریائے نیلم کے کنارے واقع ریڈ فورٹ اور میرپور میں باگسر قلعے کی بحالی کے لیے فنڈز حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں برصغیرکی تقسیم سے قبل بڑی تعداد میں سکھ اور ہندو آباد تھے جن کی عبادت گاہیں آج بھی بعض علاقوں میں موجود ہیں۔

ان تاریخی عبادت گاہوں میں مظفرآباد میں سکھوں کی چھٹی بادشاہی اور رمبیرسنگھ کی تعمیرکردہ بارہ دری قابل ذکر ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG