رسائی کے لنکس

سندھ میں اس وقت ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد ڈھائی ہزار ہے۔ رواں سال ایچ آئی یاایڈز سے 838 افراد متاثر ہوئے جن میں756 مرد، 65 عورتیں اور 15 بچے شامل ہیں

پاکستان میں ایڈز سے متعلق سوچ میں مسلسل تبدیلی آرہی ہے۔ ابتدا میں اس مرض کو ’چھوت‘ کامرض سمجھا گیا، یہاں تک کہ جس مریض پر ایڈز یا ایچ آئی وی پوزیٹیو کا شک بھی ہوتا اسے تنہا کردیا جاتا تھا۔ گھر والے اسے الگ تھلگ اور قیدیوں والی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا کرتے تھے۔خود مریض کا یہ حال تھا کہ تنہائی کے خوف کی وجہ سے وہ گویا خود سے بھی یہ مرض چھپانے کو کوشش کرتا تھا۔

لیکن، سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر محمد احمد قاضی کا کہنا ہے کہ ’اب صورتحال بدل رہی ہے۔ اب لوگوں میں اس سے متعلق کا فی حد تک آگاہی پیدا ہوگئی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک جانب پاکستان اور خاص کرسندھ کے تین بڑے شہروں ۔۔۔ کراچی، لاڑکانہ اور حیدرآباد ۔۔۔میں جہاں ایڈز کے مریضوں کی تعدادصوبے بھر میں سب سے زیادہ ہے وہاں ایچ آئی وی یاایڈز کا مرض روکنے سے متعلق حکومتی کوششیں کامیاب رہی ہیں۔اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ پاکستان میں یہ مرض اس خطرناک حد تک عام نہیں ہوا جتنا پڑوسی ممالک اورخاص کربھارت میں ہوا ہے۔‘

صوبے میں ایڈز کو قابو میں رکھنے کے لئے بیرونی امداد سے چلائے جانے والے سرکاری منصوبے ’سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام‘ کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق سندھ میں اس وقت ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد ڈھائی ہزار ہے۔ رواں سال ایچ آئی یاایڈز سے 838افراد متاثر ہوئے جن میں756مرد، 65عورتیں اور 15بچے شامل ہیں۔

ایس اے سی پی کے عہدیدار، ڈاکٹر آفتاب نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ایڈز کے مریضوں کی جانب سے ڈاکٹرز سے رجوع کرنے اور ایڈز کا عام مرض کی طرح علاج کرانے کا لوگوں میں رجحان بڑھ رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں بھی یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ایچ آئی وی انفیکشن اور ایڈز کی وجہ سے ہونے والی اموات میں کمی آرہی ہے۔ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام ویسے تو سال بھر آگاہی کی مختلف مہمات چلاتا رہتا ہے لیکن ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر خاص پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں۔

مرض سے آگاہی اور عوام میں اس سے متعلق شعور بیدار کرنے کے لئے کراچی میں ’ایچ آئی وی ایڈز آگاہی واک‘ ہوئی جس کا اہتمام سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام نے کیا تھا۔ واک کے شرکاٴ نے اپنے ہاتھوں میں بینر اٹھارکھے تھے ۔

ایچ آئی وی کے بارے میں ادارے کے سربراہ نے لوگوں کو آگاہ کیا کہ ایچ آئی وی ایڈز کا وائرس بہت مہلک ہوتا ہے۔ اس سے متاثرہ افراد کی قوت مدافعت ختم ہوجاتی ہے۔ وائرس متاثرہ افراد کی استعمال کردہ سرنج، آلودہ سوئیوں اورآلودہ حجام کے استروں سے بھی ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے لہذا ایسی چیزوں کو صرف ایک شخص ایک ہی مرتبہ استعمال کرے اور ضائع کردے۔

ڈاکٹرز کے مطابق پاکستان میں مرض پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ انجکشن کے ذریعے نشے کا استعمال ہے۔ ایسے ہی لوگ مرض پھیلانے میں پیش پیش ہیں۔ پاکستان میں نشے کے بعد جس اقدام کے تحت ایڈز کا مرض تیزی سے پھل رہا ہے وہ ہے جسم فروشی۔

ان کے مطابق، کل کیسز میں انجکشن سے نشہ کرنے والوں کا تناسب 99 فیصد، جسم فروش خواتین کا تناسب1 فیصد اور مردوں کا 7 فیصد ہے۔
XS
SM
MD
LG