رسائی کے لنکس

تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ طریقہ ِعلاج میں چند تبدیلیاں لاکر ایڈز کے مرض میں مبتلا ایسے بچوں کی زندگی کو بچانا ممکن ہو سکتا ہے جو نمونیا میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں

ایک نئی تحقیق کے مطابق ایسے بچے جو ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں، اُن میں نمونیا سے ہلاک ہونے کا امکان ان کے ہم عصر بچوں کی نسبت جنہیں ایڈز کا مرض لاحق نہیں، کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق، افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسے بچوں کی زیادہ تعداد افریقی ممالک میں بستی ہے۔

تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ طریقہ ِعلاج میں چند تبدیلیاں لا کر ایڈز کے مرض میں مبتلا ایسے بچوں کی زندگی کو بچانا ممکن ہو سکتا ہے ،جو نمونیا میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف ایڈن برگ کی جانب سے کی گئی۔

اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر ،ہاریش نائر کا کہنا ہے کہ، ’ہم نمونیا کے حوالے سے گذشتہ ایک دہائی سے کام کر رہے ہیں۔ اور ہم نے یہ اندازہ لگایا کہ ایڈز اور نمونیا کے مرض میں بیک وقت مبتلا بچوں کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ نمونیا، ایڈز کے مرض میں مبتلا بچوں کی زندگیوں کے لیے کتنا خطرناک ہے‘۔

گو کہ اس سے قبل بھی یہ امر واضح تھا کہ ایڈز میں مبتلا بچوں کے لیے نمونیا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، مگر اس حوالے سے کوئی اعداد و شمار سامنے نہیں تھے۔

ڈاکٹر ہاریش نائر کا کہنا ہے کہ، ’ہمیں اپنی تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ ہر سال دنیا بھر میں پانچ برس سے کم عمر کے بچوں میں 116 ملین بچے نمونیا میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان میں سے 1.4 ملین بچے ایچ آئی وی وائرس پوزیٹیو ہوتے ہیں‘۔

تحقیق میں معلوم ہوا کہ ہر برس بچوں میں نمونیا سے ہونے والی 920,000 ہلاکتوں میں سے 88 ہزار اموات ان بچوں کی تھیں جو نمونیا اور ایڈز میں مبتلا تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افریقہ اور جنوبی ایشیاء میں نمونیا اور ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی اموات کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نمونیے کا تعلق غربت اور صحت ِعامہ تک رسائی نہ ہونے جیسے عوامل سے ہے۔

عالمی ادارہ ِصحت کی جانب سے اس تحقیق کی توثیق کی گئی ہے اور اسے ’دی لینسیٹ انفیکشس ڈیزیز جرنل‘ میں شائع کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG