رسائی کے لنکس

حزب اسلامی کے ایک سینیئر راہنما قریب الرحمان سعید نے کہا کہ "ہم ان سب سے معذرت کرتے ہیں جو شہید ہوئے، زخمی ہوئے یا مالی طور پر متاثر ہوئے۔"

حزب اسلامی کے ایک سینیئر راہنما قریب الرحمان سعید نے وائس آف امریکہ کی دری سروس کے ایک ریڈیو پروگرام کے دوران ان افغان خاندانوں سے معذرت کی جو ملک میں خانہ جنگی کے دوران متاثر ہوئے۔

افغان حکومت اور مسلح تنظیم حزب اسلامی کے درمیان جمعرات کو کابل میں ایک امن معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔

اس معاہدے سے حزب اسلامی کو افغانستان میں مکمل سیاسی حقوق حاصل ہو جائیں گے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں یہ کہہ کر حزب اسلامی سے حکومت کے معاہدے کو تنقید کا نشانہ بناتی آئی ہیں کہ اس سے ملک میں ماضی میں جرائم کرنے والوں کو استثنیٰ کی روایت قائم ہو جائے گی۔

کابل میں جمعرات کو ہی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس معاہدے کے خلاف مظاہرہ بھی کیا جس میں گلبدین حکمت یار کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے انھیں "کابل کا قاتل" کہا جاتا رہا۔

وائس آف امریکہ کی طرف سے حزب اسلامی کے ایک سینیئر راہنما قریب الرحمان سعید سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا گلبدین حکمت یار خانہ جنگی کے دوران ہونے والی قتل و غارت اور دیگر نقصان پر معذرت کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ "ہم ان سب سے معافی کے طلب گار ہیں، جو شہید ہوئے، زخمی ہوئے یا مالی طور پر متاثر ہوئے۔"

جمعرات کو افغان قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمار نے بھی اس بارے میں تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاہدے میں ایسا کچھ نہیں ہے کہ جو انسانی حقوق خصوصاً خواتین کے حقوق کے ضمن میں افغانستان کی پیش رفت کو متاثر کرے۔

ان کے بقول عسکریت پسند گروپ مستقبل میں جنگ بندی کا اعلان کرے گا، کسی بھی دہشت گرد گروپ سے قطع تعلق اور اپنی عسکری سرگرمیاں بند کرے گا۔

اتمار نے کہا کہ اس کے بدلے افغان حکومت حزب اسلامی کو تمام سیاسی حقوق دے گی اور گلبدین حکمت یار کا نام اقوام متحدہ اور امریکہ کی دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کروانے کے لیے کام کرے گی۔

XS
SM
MD
LG