رسائی کے لنکس

حمص سے باغیوں کا یہ انخلا اُنھیں وہاں سے محفوظ راستہ دیئے جانے کے معاہدے کے بعد ہوا۔

شام میں حقوق انسانی کے سرگرم کارکنوں اور غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ محصور شہر حمص سے باغیوں کا بسوں کے ذریعے انخلا بدھ کو شروع ہوا۔

کارکنوں کے مطابق حمص سے دو بسوں کے ذریعے باہر نکلنے والوں میں عام شہری اور جنگجو دونوں شامل ہیں۔

حمص سے باغیوں کا یہ انخلا اُنھیں وہاں سے محفوظ راستہ دیئے جانے کے معاہدے کے بعد ہوا۔ معاہدے کے مطابق باغیوں کو حزب مخالف کے زیر تسلط دوسرے علاقوں تک جانے کی اجازت دی گئی۔

حمص شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف بر سرپیکار جنگجوؤں کا مرکز تھا اب یہ شہر دوبارہ حکومت کے زیر کنٹرول ہو گا۔

دریں اثنا ملک کے شمال میں باغیوں نے اپنے زیر قبضہ شہروں میں امدادی سامان لے جانے کی اجازت دی ہے۔

یہ پیش رفت باغیوں اور صدر بشار الاسد کی حامی فورسز کے درمیان اتفاق رائے کے بعد ہوئی۔

مارچ 2011 میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مظاہروں اور خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد اب تک ایک لاکھ پچاس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

صدر بشار الاسد اور دو دیگر اُمیدوار تین جون کو صدارتی انتخابات کے لیے میدان ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ بشار الاسد دوبارہ صدر منتخب ہو جائیں گے۔
XS
SM
MD
LG