رسائی کے لنکس

ہانگ کانگ کے انتخابات میں چین نواز پارٹیوں کی فتح

  • واشنگٹن

ہانگ کانگ کے انتخابات

ہانگ کانگ کے انتخابات

مجلسِ قانون ساز میں سب سے بڑی پارٹی، یعنی بیجنگ کی حامی DAB کو تین مزید ڈسٹرکٹ سیٹیں حاصل ہو گئیں ۔ پین ڈیموکریٹک پارٹیوں کو کُل اٹھارہ ڈسٹرکٹ سیٹیں ملیں یعنی 2008 کے مقابلے میں ایک کم۔

ہانگ کانگ میں اتوار کے مقامی انتخابات میں چین کی حامی پارٹیوں کی فتح ہوئی ہے ۔ گذشتہ چند ہفتوں سے ہانگ کانگ کی سیاست میں ہنگامہ آرائی ہو رہی تھی اور حکومت کے خلاف احتجاج ہو رہے تھے ۔

اتوار کے انتخابات سے قبل ماحول کشیدہ تھا ۔ پولنگ اسٹیشن کھلنے سے گھنٹوں پہلے، لاکھوں احتجاجی ہانگ کانگ کی حکومت کے ہیڈ کواٹرز کے باہر جمع ہو گئے تھے ۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اخلاقی اور قومی تعلیم کا لازمی نصاب جس کا مقصد ہانگ کانگ کے اسکولوں میں چینی حب الوطنی کا فروغ تھا، منسوخ کیا جائے ۔

سنیچر کی رات لیونگ چن ینگ نے ان کی بات مان لی ۔ ہانگ کانگ کی حکومت کے سربراہ نے دس روز کے احتجاجوں اور بھوک ہڑتالوں کے بعد اعلان کیا کہ ان مضامین کی کلاسیں لازمی نہیں ہوں گی۔

پیر کے روز جب انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا، تو ایسا لگا کہ لیونگ نے اس متنازعہ منصوبے کو واپس لینے کا جو فیصلہ کیا تھا، اس سے انہیں سیاسی طور پر فائدہ ہوا۔

مجلسِ قانون ساز میں سب سے بڑی پارٹی، یعنی بیجنگ کی حامی DAB کو تین مزید ڈسٹرکٹ سیٹیں حاصل ہو گئیں ۔ پین ڈیموکریٹک پارٹیوں کو کُل اٹھارہ ڈسٹرکٹ سیٹیں ملیں یعنی 2008 کے مقابلے میں ایک کم۔

ہانگ کانگ کی چائینز یونیورسٹی کے پروفیسر ما گوک کا خیال ہے کہ اس کی وجہ انتخابی نظام کی بعض انوکھی باتیں ہو سکتی ہیں جن کا فائدہ بیجنگ کی حامی پارٹیوں کو ہوتا ہے ۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جمہوریت کی حامی چار پارٹیوں کو انتخابات میں آپس کی رقابتوں اور جھگڑوں سے اور کسی مربوط سیاسی اسٹریٹجی کے فقدان کی وجہ سے نقصان ہوا۔


دنیا کے کسی بھی شہر میں غریب اور امیر کے درمیان فرق اتنا زیادہ نہیں ہے جتنا ہانگ کانگ میں ہے ۔ یہاں رہنے والے اب چین سے آئے ہوئے مالدار لوگوں کے بارے میں آواز بلند کرنے لگے ہیں جن کی وجہ سے عام چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور ٹرانسپورٹیشن اور صحت کی سہولتوں پر دباؤ پڑتا ہے ۔

شہر میں رہنے والے بہت سے لوگوں کے لیے کم سے کم اجرت میں اضافہ، اور با کفایت رہائشی سہولتوں کی فراہمی بنیادی مسائل ہیں۔ ڈیموکریٹس کے لیے طویل مدت کا ہدف یہ بھی ہے کہ تمام لوگوں کو ووٹ کا حق حاصل ہو، اور شہر پر چین کی گرفت ڈھیلی پڑے ۔

چین کی نیشنل پیپلز کانگریس نے 2007 میں کہا تھا کہ اس سے پہلے کہ 2017 میں شہر کے اگلے لیڈر کے لیے انتخابات ہوں، ہانگ کانگ میں سب کو ووٹ کا حق دیا جا سکتا ہے ۔

لیکن جیسے جیسے یہ تاریخ قریب آ رہی ہے، اس تشویش میں اضافہ ہورہا ہے کہ ہانگ کانگ کی حکومت اس منصوبے کو ملتوی کر دے گی، اور ایسے قوانین بنا دے گی جن کا مقصد یہ ہوگا کہ مستقبل میں کونسلیں مکمل طور پر ایک شخص ایک ووٹ کی بنیاد پر منتخب نہ ہونے پائیں۔

اگرچہ پیر کے نتائج سے جمہوری پارٹیوں کو مایوسی ہوئی ہے، لیکن انھوں نے اتنی نشستیں ضرور جیت لی ہیں جن کے ذریعے وہ مکمل جمہوریت کی طرف پیش رفت کو روکنے کے کوششوں کو بے اثر بنا سکتی ہیں ۔
XS
SM
MD
LG