رسائی کے لنکس

ہانگ کانگ: دہرے قتل کے الزام میں برطانوی شہری گرفتار


جائے واردات

جائے واردات

پولیس کا کہنا تھا کہ ایک لاش سوٹ کیس میں بند تھی جب کہ ایک لاش کمرے میں پڑی تھی اور اس کی گردن اور کولہوں پر زخم لگے ہوئے تھے۔

ہانگ کانگ پولیس نے ایک 29 سالہ برطانوی بینکار کو دہرے قتل کے الزام میں گرفتار کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس شخص کے اپارٹمنٹ سے دو خواتین کی لاشیں ملیں جن میں سے ایک سوٹ کیس میں چھپائی گئی تھی۔

پولیس نے اس شخص کی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ اسے پیر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ہانگ کانگ کے ذرائع ابلاغ کے مطابق ہلاک کی گئی خواتین کا تعلق انڈونیشیا سے تھا اور وہ جسم فروش تھیں۔

بینک آف امریکہ کے ایک ترجمان میرل لینچ نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ذرائع ابلاغ میں دہرے قتل سے متعلق جس شخص کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ان کے بینک میں کچھ عرصہ قبل اس نام کا شخص ملازمت کرتا تھا۔

تاہم ترجمان نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ اس شخص نے کب نوکری چھوڑی۔

اس برطانوی شخص کو ہفتہ کو وان چائی کے علاقے سے اس کے اپارٹمنٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

برطانوی دفتر خارجہ نے ہانگ کانگ میں اپنے ایک شہری کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے لیکن اس کا نام اور جرم کی نوعیت سے متعلق تفصیل فراہم نہیں کی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ایک لاش سوٹ کیس میں بند تھی جب کہ ایک لاش کمرے میں پڑی تھی اور اس کی گردن اور کولہوں پر زخم لگے ہوئے تھے۔ میڈیا کے مطابق سوٹ کیس میں بند لاش کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تین سے چار روز پرانی ہے۔

ہانگ کانگ کے اخبار "ایپل ڈیلی" کی ایک خبر کے مطابق مشتبہ شخص نے خواتین کو قتل کرنے کے بعد ان کی تقریباً دو ہزار تصاویر اتاریں اور وڈیو بھی بنائی جن میں ان کے زخموں کو قریب سے دیکھایا گیا۔

جس اپارٹمنٹ سے یہ لاشیں برآمد ہوئیں وہ عمارت کی اکتیسویں منزل پر واقع تھا۔ یہ عمارت کاروباری شخصیات میں خاصی مقبول اور مہنگی تصور کی جاتی ہے اور یہاں ایک اپارٹمنٹ کا اوسط کرایہ تقریباً چار ہزار ڈالر ماہانہ بتایا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG