رسائی کے لنکس

حزب مخالف کے کارکنان یہ کہہ کر اس مسودے کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے کہ یہ خطے کو "جعلی جمہوریت" کی طرف لے جائے گا۔

ہانگ کانگ میں قانون ساز بیجنگ کے حمایت یافتہ اس متنازع انتخابی اصلاحات کے مسودے پر بحث شروع کر رہے ہیں جسے جمہوریت نواز گروپ مسترد کر چکے ہیں۔

دونوں جانب کے سینکڑوں مظاہرین بدھ کو اسمبلی کے باہر جمع ہوئے۔ حکومت کے حامی چین کے جھنڈے لہراتے نظر آئے اور حزب مخالف کے کارکنان یہ کہہ کر اس مسودے کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے کہ یہ خطے کو "جعلی جمہوریت" کی طرف لے جائے گا۔

اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے۔ پولیس نے یہاں رواں ہفتے ہی بھاری مقدار میں کیمیائی مواد قبضے میں لے کر دس افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ان افراد پر دھماکا کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا گیا۔

حکام نے دھماکے کے اس منصوبے کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم کی ہیں۔ حزب مخالف کے بعض کارکنوں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ زیادہ تر پرامن رہنے والی جمہوریت نواز تحریک کو ختم کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے۔

ان گرفتاریوں سے قبل ہی یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ایک بار پھر ویسی ہی تحریک شروع ہو سکتی ہے جس نے گزشتہ سال یہ خطے کو تقریباً مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ اس تحریک میں ہزاروں افراد انتخابی اصلاحات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

توقع ہے کہ قانون ساز رواں ہفتے کے اواخر تک اس مسودے پر رائے شماری کریں گے لیکن یہ واضح نہیں اسے منظور کرنے کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل ہو سکے گی یا نہیں۔

اس مجوزہ اصلاحتی قانون کے تحت ہانگ کانگ کے باسی پہلی بار اپنے چیف ایگزیکٹو کا انتخاب کر سکیں گے لیکن اس انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں کو پہلے بیجنگ نواز کمیٹی کی طرف سے منظوری لینا ہوگی۔

اگر یہ مسودہ منظور نہیں ہوتا تو پھر ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو کا انتخاب پہلے کی طرح 1200 ارکان پر مشتمل الیکشن کمیٹی ہی کرے گی۔

XS
SM
MD
LG