رسائی کے لنکس

ہانگ کانگ مظاہروں میں شامل دو افراد پر جیل میں تشدد: ایمنسٹی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

لندن میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم کی طرف سے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ "امبریلا موومنٹ" کے نام سے موسوم تحریک کے 27 حمایتی چین میں قید ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ چین نے ہانگ کانگ کے جمہوریت نواز مظاہروں کے حمایت کرنے والے کم ازکم دو افراد پر دوران قید مبینہ طور پر تشدد کیا ہے۔

گزشتہ سال ان مظاہروں کی وجہ سے ہانگ کانگ کے بڑے حصوں کو مفلوج کر دیا تھا۔

لندن میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم کی طرف سے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ "امبریلا موومنٹ" کے نام سے موسوم تحریک کے 27 حمایتی چین میں قید ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ان میں سے 9 کو وکیل تک رسائی نہیں دی گئی جبکہ چار کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔

جن افراد کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں ان میں سے ایک معروف شاعر وانگ زنگ ہیں جن کو گزشتہ سال اکتوبر میں سماجی میڈیا پر ان کی طرف سے مظاہرین کی حمایت میں ایک تصویر جاری کرنے کی بنا پر "جھگڑا کرنے اور فساد پر ابھارنے" کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ "انہیں 25 دسمبر تک اپنے وکیل سے ملنے کی اجازت نہ دی گئی۔ بعد ازاں انہوں نے اسے (وکیل کو) بتایا کہ ان سے پانچ روز تک بغیر کسی وقفے کے تفتیش کی گئی جس دوران انہیں مارا پیٹا گیا، نہ سونے دیا گیا اور زیادہ وقت کے لیے انہیں کھڑا رہنے پر مجبور کیا گیا"۔

لی یو فینگ جو خواتین کے حقوق کی ایک سرگرم کارکن ہیں اور ان کا تعلق ہنان صوبے سے ہے، کو بھی ستمبر میں ہانگ کانگ میں مظاہرین کی حمایت میں بیانات جاری کرنے کی بنا پر گرفتار کیا گیا۔ ان پر " افراتفری پیدا کرنے" کا الزام عائد کیا گیا۔

چین کی طرف سے ابھی تک ایمنسٹی کی رپورٹ کے ردعمل میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

گزشتہ سال ستمبر میں مظاہرین کی 'آکوپائی سنڑل' احتجاجی تحریک نے ہانگ کانگ کی ایک مرکزی شاہراہ کو ڈھائی ماہ تک بند رکھا۔ اس دوران ایک وقت میں مظاہرین کی تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی جو بیجنگ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن گیا۔

بیجنگ میں حکام نے ان احتجاجی دھرنوں کو غیر قانونی قرار دیا اور بالآخر پولیس کی مدد سے ان کے مطالبات مانے بغیر ان کو ختم کروا دیا۔

مظاہرین ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو کے استعفیٰ اور چین سے اس کی طرف سے 2017ء میں یہاں ہونے والے انتخابات میں اُمیدواروں کی چھان بین کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG