رسائی کے لنکس

ہانگ کانگ میں مظاہروں پر تین طالب علموں کو ’مجرم قرار‘ دے دیا گیا


جوشوا وانگ

جوشوا وانگ

ان تینوں رہنماؤں کو 15 اگست کو سزا سنائی جائے گی۔

ہانگ کانگ کی ایک عدالت نے دو سال قبل جمہوریت کے حق میں مظاہروں کی قیادت کرنے والے تین طالب علم رہنماؤں کو جرم کا مرتکب قرار دیا ہے۔

جوشوا وانگ اور الیکس چو کو ایک غیر قانونی اجتماع میں شرکت کرنے کی جرم کا مرتکب قرار دیا گیا جب کہ ناتھن لا کو دیگر افراد کو اس اجتماع میں شرکت پر مائل کرنے کا جرم عائد کیا گیا۔ ان تینوں رہنماؤں کو 15 اگست کو سزا سنائی جائے گی۔

ان تینوں رہنماؤں نے 26 ستمبر 2014 کو ہانگ کانگ کی حکومت کے احاطے میں 'سوک اسکوئر' میں مظاہرہ کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ چین کے نیم خود مختار علاقے ہانگ کانگ میں آزادنہ اور شفاف انتخابات کروائے جائیں۔

ہانگ کانگ کی مرکزی شاہراہ پر مظاہرین نے مسلسل 79 دنوں تک احتجاج اور دھرنا دیا رکھا۔

اس فیصلے کے ردعمل میں جوشوا وانگ اور ناتھن لا نے جمہوریت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے

جوشوا وانگ نے کہا کہ’’جو بھی سزا یا قیمت ہمیں دینے پڑے اس کے باوجود ہم حکومت کے خلاف لڑتے رہیں گے۔۔ جمہوریت کے لیے یہ ایک طویل جدوجہد ہو گی۔ چاہے ہمیں سخت سزا کا سامنا کر نے پڑے۔‘‘

جوناتھن لا نے کہا کہ ’’میں صاف صاف کہوں گا کہ میں اس (مقدمے کا) فیصلہ سننے کے بارے میں بڑا پرسکون تھا کیونکہ یہ دو سال سے جاری تھا۔۔۔۔ ہم جمہوریت کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ حکومت ہمارے ساتھ جو کچھ بھی کرے ہم اس سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔‘‘

ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز حلقوں کی اس تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کہ ہانگ کانگ کی 1997 میں برطانیہ سے چین کو واپسی کے بعد سے ہانگ کانگ میں شہری آزادی متاثر ہو رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG