رسائی کے لنکس

ہانک کانگ میں بچوں کو خوراک کی قلت کا سامنا


ہانک کانگ میں بچوں کو خوراک کی قلت کا سامنا

ہانک کانگ میں بچوں کو خوراک کی قلت کا سامنا

برطانوی فلاحی تنظیم 'آکسفام' کے تحت کی گئی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہانگ کانگ کی ترقی اور معاشی چکا چوند کے باوجود علاقے کے ہزاروں بچوں کو روزانہ خوراک کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

'ہانگ کانگ یونیورسٹی' کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق کے نتائج کو جمعرات کو جاری کیا گیا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے ہر چھ میں سے ایک خاندان میں بچوں کو بھوکا رہنا پڑتا ہے۔ 70 لاکھ کی آبادی کے اس شہر میں ایسے خاندانوں کی تعداد ایک لاکھ 40 ہزار کے لگ بھگ بنتی ہے۔

تحقیق کے نتائج ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب ایک روز قبل ہی چین کے نائب وزیرِاعظم لی کیق یانگ نے ہانگ کانگ کا دورہ کرکے چین کے اس خود مختار علاقے کی معیشت کی ترقی کے لیے کئی اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔

رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے 'آکسفام' کے ترجمان نے دنیا میں خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو صورتِ حال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں برس کے اختتام تک صورتِ حال مزید بدتر ہو سکتی ہے۔

تحقیق 15 برس سے کم عمر کے بچوں والے 600 خاندانوں کے انٹرویوز کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے جس کے مطابق 16 فی صد خاندانوں کے بچوں کو خوراک کی انتہائی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ لگ بھگ ایک تہائی خاندانوں کو کبھی کبھار اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے درکار مکمل خوراک نہیں مل پاتی۔

واضح رہے کہ ہانگ کانگ میں امیر اور غریب کی بڑھتی ہوئی تفریق کے باعث معاشرے میں خاصی بے چینی پائی جاتی ہے۔ علاقے میں ہر 70 میں سے ایک فرد (کل ایک لاکھ افراد) کے اثاثے 10 لاکھ ڈالرز سے کم ہیں۔

XS
SM
MD
LG