رسائی کے لنکس

تاہم، ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں، اُنھوں نے کہا کہ، مروجہ شرعی قانون میں معافی کی شق موجود ہے، جس کی رو سے ’ولی‘ قاتلوں کو معافی دے سکتا ہے

خواتین کے حقوق سے وابستہ، ’عورت فاؤنڈیشن‘ کی وکیل، ملیحہ ضیا لاری نے کہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل، دراصل قتل ہی ہے، جس کی سزا مذہب، آئین و قانون میں متعین ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں، اُنھوں نے کہا کہ، تاہم مروجہ شرعی قانون میں معافی کی شق موجود ہے، جس کی رو سے ’ولی‘ قاتلوں کو معاف کر سکتا ہے۔

نام نہاد ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے معاملے پر اُنھوں نے کہا کہ اس میں خاندان ہی لڑکی یا لڑکے کو مارتا ہے۔ ’فرزانہ کے معاملے میں، اُن کی ماں ہی ولی ہوں گی، اور قیاس یہی ہے کہ وہ اپنے شوہر اور بیٹوں کو معافی دے سکتی ہیں‘۔

اِس قانون کو مؤثر بنانے کے لیے، اُن کا کہنا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے معاملے میں ’ریاست خود ہی ولی بنے‘۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر راہنما، حفیظ الرحمٰن نے کہا ہے کہ ایک بالغ لڑکی یا لڑکے کو اسلام اور پاکستان کا آئین دونوں اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنی پسند کی شادی کریں۔ ’اگر کسی کو کسی پر سزا تجویز کرنی ہے تو اُس کو عدالت میں ثبوت پیش کرنا ہوگا۔ جبکہ قانون میں قتل پردفعہ302لگتا ہے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:
XS
SM
MD
LG