رسائی کے لنکس

حسنی مبارک کو اب آٹھ جون کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا، جب کہ اُن کے خلاف عائد مقدمے کی سماعت سست روی سے آگے بڑھ رہی ہے

حالیہ دنوں میں مصرکے سابق صدر حسنی مبارک کے مقدمے کی سماعت کے پھر ملتوی ہونے کے بعد، کچھ لوگوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا ہے آیا انصاف کے تقاضے کب پورے کیے جائیں گے۔

وائس آف امریکہ کی نامہ نگار، الزبیتھ اروٹ نے قاہرہ سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حسنی مبارک کو اب آٹھ جون کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا، جب کہ اُن کے خلاف عائد مقدمے کی سماعت سست روی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

اُن پر الزام ہے کہ وہ اُن لوگوں کے قتل کے شریک ملزم ہیں جنھیں اُن کے اقتدار کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک کیا گیا۔ اِس مقدمے کی سماعت دو بار ملتوی ہو چکی ہے۔

وکلا کا کہنا ہے کہ وہ نئے ثبوت پیش کریں گے، لیکن تاخیر کے باعث سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ کیا واقعی پچاسی برس کے سابق حکمراں کے خلاف کبھی مقدمے کا فیصلہ ہوگا۔

عدالت نے تقریباً دو برس قبل پہلی بار اُن کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔

اِس کی ابتدا اگست 2011ء میں ہوئی۔

اگلے سال کی جون میں اُن کو سزا سنائی گئی کہ وہ اِن ہلاکتوں کو روکنے میں ناکام رہے تھے۔

اِس سال کے اوائل میں، اُن کی سماعت میں التویٰ کی اجازت دی گئی۔

تاخیر برتنے پر اُن کے متعدد مخالفین برہم ہیں، جو ابھی تک اُن کےخلاف فوجداری
مقدمے دائر کر رہے ہیں، جب کہ اُن کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اُن کی اپیل پر اُنھیں بری کیا جانا چاہیئے۔

تاہم، کافی لوگوں کی اِس معاملے میں اب کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی۔

ایک وقت تھا کہ لوگوں کے اجتماعات میں مطالبہ کیا جاتا تھا کہ اُن کے سابق حکمراں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، جو مطالبے اب ہوتے ہوتے کم ہوگئے ہیں، جب کہ معاملے میں تاخیر لمبی ہوتی جا رہی ہے۔

پروفیسر سعید صادق نے مبارک کے مقدمے کا چلی کے آنجہانی صدر آگسٹو پنوچھے کے خلاف مقدمہ چلانے کی ناکام کوششوں سے موازنہ کیا ہے، اور کہا ہے لگتا یوں ہے کہ یہ مقدمہ بھی اُسی ڈگر پر چل پڑا ہے۔
XS
SM
MD
LG