رسائی کے لنکس

امدادی کارکنوں نے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز حلب شہر کے مشرق میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں واقع سب سے بڑے اور واحد اسپتال پر بم حملہ کیا گیا، جو حالیہ دِنوں کے دوران ہونے والا دوسرا بم حملہ ہے، جب کہ حکومتِ شام کی افواج اور اُن کے روسی اتحادی پورے شہر پر قبضے کے حصول کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں۔

’سیرئین امریکن میڈیکل سوسائٹی‘ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ’ایم10 اسپتال‘ کو کم از کم دو بیرل بم لگے، ایسے میں جب معالج چند مریضوں کے ہنگامی عملِ جراحی میں مصروف تھے۔

ادھم سہلول نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ تباہ ہونے والی اِس تنصیب میں طبی اہل کاروں اور مریضوں کی تھوڑی سی تعداد ابھی تک پھنسی ہوئی ہے، جب کہ بدھ کے روز کی فضائی کارروائی کے دوران دو اسپتال تباہ ہو چکے ہیں، جن حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔

’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ کے مبصرین نے بتایا ہے کہ حلب میں ایک ایسے وقت میں 300000 افراد کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے کُل 30 ڈاکٹر باقی رہ گئے ہیں، جب سرکاری فوج شہر کے شمال میں واقع اہم مضافات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

ہفتے کے روز مبصرین نے بتایا کہ کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے، جن میں چھ بچے شامل ہیں؛ جب کہ شہر میں باغیوں کے علاقے میں مزید فضائی حملے ہوئے ہیں۔

ادھر، عالمی ادارہٴ صحت نے شام میں مشرقی حلب کے سینکڑوں بیمار اور زخمی افراد کے فوری انخلاٴ کا مطالبہ کیا ہے۔ ’ڈبلیو ایچ او‘ کے اندازوں کے مطابق، گذشتہ دو ہفتوں کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے، جن میں سے ایک تہائی بچے تھے۔

رِک برینن، عالمی ادارہ صحت میں انسانی ہمدردی کی ہنگامی امداد کے سربراہ ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’صورت حال سمجھ سے باہر ہے۔ صحت سے متعلق اہل کاروں کے مطابق، گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والے بم حملوں میں 846 ہلاکتیں ہوچکی ہیں، جن میں سے 106 بچے تھے۔ 146 افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک تہائی، یعنی 261 بچے تھے‘‘۔

امریکی صدر براک اوباما نے مشرقی حلب میں’’وحشیانہ روسی اور شامی فضائی کارروائیوں‘‘ کے نتیجے میں شہری آبادی کی ہلاکتوں کی شدید مذمت کی ہے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے حالیہ دِنوں کے دوران شہر میں شدت پسند اہداف کو ہدف نہیں بنایا، چونکہ یہ شہری آبادی اور معتدل گروہوں کے نزدیک واقع ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG