رسائی کے لنکس

کیمیکلز کا غیر محفوظ استعمال ہر سال دس لاکھ زندگیاں نگل رہا ہے

  • واشنگٹن

ماحول سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کا کہناہے کہ موجودہ زیر استعمال کیمیکلز میں سے انتہائی قلیل تعداد کے بارے میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کے ماحول اور انسانی صحت پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں

اقوام متحدہ نے کیمیائی عناصر سے صحت اور ماحول کودرپیش مسائل میں اضافے پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحول سے متعلق پروگرام یواین ای پی کی ایک حالیہ مطالعاتی رپورٹ ’گوبل کیمیکلز آؤٹ لک ‘ میں کہا گیا ہے کہ کیمیائی عناصر کے استعمال کی منصوبہ بندی سے نہ صرف لاکھوں زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں اوردنیا بھر کے ممالک کے لیے ترقی کی نئی راہیں کھولی جاسکتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر شعبے میں کیمیکلز حاوی دکھائی دیتے ہیں۔ اور اس تصویر کا ایک خوفناک رخ یہ ہے کہ بہت کم لوگوں کو یہ علم ہے کہ اندازاً ایک لاکھ 43 ہزار اقسام کے کیمیکلز دنیا بھر میں زیر استعمال ہیں۔

ماحول سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کا کہناہے کہ زیر استعمال کیمیکلز میں انتہائی قلیل تعداد کے بارے میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کے ماحول اور انسانی صحت پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں کیمیکلز کا استعمال جاری ہے ، چاہے وہ زراعت ہویا الیکٹرانکس یا پھر کان کنی ، رنگ ہوں، یا ٹیکسٹائل کی صنعت یا بچوں کے کھلونے،غرض کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں کیمیکلز موجود نہیں ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیمیکلز کے غیر محفوظ استعمال سے بڑی تعداد میں لوگ یا تو موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں یا پھر معذوری ان کی زندگی بھر کار وگ بن جاتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کیمیکلز کے غیر محفوظ استعمال سے ہر سال دنیا بھر میں دس لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ماحولیات کی تنظیم کے ٹیکنالوجی ، انڈسٹری اور اکنامکس کے ڈائریکٹر سیلوی لیمٹ کہتے ہیں کہ صحت اور ماحول پر کیمیکلز کے مضر اثرات کے ساتھ ساتھ ان کے غیر مناسب استعمال سے پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2050ء تک دنیا بھر میں کیمیکلز کے استعمال میں تین فی صد سالانہ کی شرح سے اضافہ متوقع ہے۔اور اب ان کا استعمال تیز ی سے ترقی یافتہ ممالک سے ترقی پذیر ممالک کی جانب منتقل ہورہاہے۔

رپورٹ کے مطابق 2012ء اور 2020ء کے درمیان افریقی اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ممالک میں کیمیکلز کے استعمال میں 40 فی صد تک اضافہ متوقع ہے جب کہ لاطینی امریکہ میں اضافے کا تخمینہ 33 فی صد لگایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کیمیکلز کے مضر استعمال کے حفاظتی اقدامات ، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے مقابلے میں کہیں کم ہیں۔منصف نے کیمیکلز تیار کرنے والوں پر زور دیا ہے کہ وہ حکومت کی حفاظتی پالیسیوں کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ رپورٹ حکومتوں پر بھی یہ زور دیتی ہے کہ وہ ایسی پالیسی ترتیب دیں جس سے محفوظ متبادل تیار کرنے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہو۔
XS
SM
MD
LG