رسائی کے لنکس

شدید سردی سے انسان کو فروسٹ بائیٹ پھر ہائی پوتھرمیا میں مبتلا ہونے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے۔

امریکہ کی مشرقی ریاستیں گذشتہ کئی دنوں سے شدید برفانی موسم کی لپیٹ میں ہیں اور درجہ ِ حرارت نقطہ ِانجماد سے کئی درجے نیچے گرنے کے بعد بھی عوام کو موسم کی سختی کے بارے میں متنبہہ کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ شدید سردی اور برفانی ہواؤں سے انسان کو طبعیت سے متعلق کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

شدید سردی سے انسان فروسٹ بائیٹ (شدید سردی سے انسانی جلد کا پھٹنا یا گل جانا) یا پھر ہائی پوتھرمیا (شدید سردی میں انسانی جسم کا درجہ ِحرارت نارمل سے کم ہوجانا) میں مبتلا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ہائی پوتھرمیا وہ صورتحال ہے جس میں انسان کا جسمانی ٹمپریچر 35 سینٹی گریڈ سے نیچے گر جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی طبعیت ہائی پوتھرمیا میں مبتلا ہونے کے بعد بحال ہو جاتی ہے، ان میں پھر بھی گردوں، جگر اور پتے کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان برقرار رہتا ہے۔

مگر کیا تھرمامیٹر کے بغیر اس بات کا اندازہ کیسے لگایا جائے کہ آپ کو ہائی پوتھرمیا ہو گیا ہے؟ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر انسان کو نہ ختم ہونے والی کپکپاہٹ ہو جائے، یادداشت خراب ہو جائے، الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کے نکل رہے ہوں اور غنودگی اور تھکاوٹ کی کیفیت طاری ہو تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ ہائی پوتھرمیا میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

فروسٹ بائیٹ وہ کیفیت ہے جس میں شدید سردی کے باعث انسانی جلد اور جلد کے نیچے موجود ریشوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ محکمہ ِ موسمیات کے مطابق منفی 29 سینٹی گریڈ کے درجہ ِ حرارت میں انسانی جلد محض 30 منٹ میں فروسٹ بائیٹ کا نشانہ بن سکتی ہے۔

فروسٹ بائیٹ زیادہ تر جسم کے ان حصوں پر ہوتا ہے جو کھلے ہوتے ہیں جیسا کہ کانوں کی لو، ہاتھ اور ناک وغیرہ وغیرہ۔ فروسٹ بائیٹ کی وجہ سے یہ حصے سفید ہو جاتے ہیں اور انسان ان حصوں کو محسوس نہیں کر پاتا۔

XS
SM
MD
LG