رسائی کے لنکس

لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہونے سے کیسے بچیں؟


کچھ لوگ دوسروں سے اپنا کام نکلوانے کے لیے یا اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے بظاہر دوستانہ یا ہمدردانہ رویہ اختیار کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے مقاصد ٹھیک نہیں ہوتے۔

ضروریات اور خواہشات تو سب ہی کی ہوتی ہیں اور لوگ اپنے اپنے طریقے سے ان کو پورا کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں لیکن کچھ لوگ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے خفیہ اور غلط طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔

انگریزی میں 'مینیو پلیژن' اور اردو میں کسی کو استعمال کرنا۔ کچھ لوگ دوسروں سے اپنا کام نکلوانے کے لیے یا اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے بظاہر دوستانہ یا ہمدردانہ رویہ اختیار کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے مقاصد ٹھیک نہیں ہوتے۔

کئی لوگ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کو کسی کی بہت فکر ہے، لیکن دراصل وہ کوئی پس پردہ مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے وہ دوسرے لوگوں کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بہت سے لوگ ایسے ماحول میں بڑے ہوتے ہیں کہ ان کو یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ ان کے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے۔ انسان کو استعمال کرنے والے لوگ تعریف، ہمدردی یا انسان کو کسی بات کا ذمہ دار قرار دے کر ایسا کھیل کھیلتے ہیں کہ بیچارہ شکار اپنے ہی ہاتھوں شکار ہو جاتا ہے اور اسے پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ اپنے دشمن کے ہاتھوں اور اپنے ہی خلاف استعمال ہو رہا ہے اور دوسروں کی خواہشات کی تکمیل کرتا رہتا ہے۔

لوگ کبھی دوسروں سے کسی بات کی شکایت کرتے ہیں، کبھی کسی بات کی معافی مانگتے ہیں، کبھی تحفے دیتے ہیں تو کبھی اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن مقصد بس ایک ہی ہوتا ہے، دوسروں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا۔

ماہرین کے مطابق اگر لوگ اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کو استعمال کرنے والا ان کی شخصیت کو جانتا ہے اور وہ ان کی شخصیت کو ان کے ہی خلاف استعمال کر رہا ہے تو وہ لوگ اپنے آپ کو بہت سے شر پسندوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

انسان اپنی عزت نفس کو مضبوط کر کے اور صاف گوئی اپنا کر ایسے لوگوں کا با آسانی مقابلہ کر سکتا ہے۔

کراچی کے ایک معروف ماہر نفسیات نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دنوں انھیں بھی ذرائع ابلاغ کی طرف سے تعریفیں کر کے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے اپنے علم کی بنیاد پر اس تمام صورحال کا مقابلہ کیا اور پڑھنے والوں کو بھی ایسا ہی کرنے کا مشورہ دیا۔

XS
SM
MD
LG