رسائی کے لنکس

صحیح طریقے سے سیکھنا، کامیابی کی پہلی سیڑھی


ماہرین کے مطابق پہلا کارآمد طریقہ یہ ہے کہ نئی سیکھی ہوئی چیز کتنی سمجھ آئی اور حاصل کردہ معلومات کتنی یاد ہے یہ جانچنے کے لئے فلیش کارڈز یا باب کے آخر میں دیئے گئے سوالات کی مدد سے خود کا امتحان لینا۔

دو ایکم دو ، دو دونی چار سے لے کر انگریزی گرامر کے اصولوں اور سائنس کے فارمولوں سے لے کر مختلف بیماریوں کا سبب بننے والے جراثیم کے مشکل ناموں تک طالب علموں کو مختلف مضامین میں بہت کچھ پڑھایا جاتا ہے لیکن عام طور پر سیکھنے کے بہتر طریقوں کے بارے میں انھیں کوئی نہیں پڑھاتا۔

اگر ایک طالب علم کو سیکھنے کے بہتر طریقے سکھائے جائیں تو اُن طریقوں کا فائدہ اسے زندگی بھر ہو سکتا ہے اور ان طریقوں کی مدد سے وہ مختلف معلومات جلد اور بہتر طریقے سے حاصل کر سکتا ہے اور اسے زیادہ عرصے تک یاد بھی رکھ سکتا ہے۔

سانٹیفک امریکن مائنڈ نامی جریدے کے مطابق تدریسی نفسیات کے ماہر ین نے پچھلے سو سالوں میں ایسے متعدد طریقوں کو جانچا ہے جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ طالب علموں کو سیکھنے اور معلومات کو یاد رکھنے میں مدد گار ہیں۔

جریدے کے مطابق اس موضوع پر اتنی زیادہ تحقیق موجود ہے کہ اس میں سے کارآمد اور بے کار طریقوں میں تفریق کرنا ایک بڑا چیلنج ہے اور اس ہی لئے یہ معلومات اساتذہ اور طالب علموں تک نہیں پہنچ پاتیں اور یوں لوگ ان طریقوں کے پیچھے اپنا وقت اور توانائی برباد کرتے ہیں جن کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔

سانٹیفک امریکن مائنڈ کی اس خصوصی رپورٹ میں معلومات حاصل کرنے اور سیکھنے کے لئے استعمال ہونے والے دس طریقوں پر سات سو سے زائد سائنسی مضامین کا جائزہ لیا گیا ہے اور ایسے کارآمد طریقوں کی نشان دہی کی گئی ہے جو ہر عمر اور قابلیت کے لوگوں کے لئے مددگار ہو چاہے وہ اکیلے پڑھتے ہوں یا دوسروں کے ساتھ مل کر اور یہ طریقے مختلف مضامین کو سمجھنے اور یاد رکھنے میں مدد گار ہوں۔

ماہرین کے مطابق پہلا کارآمد طریقہ یہ ہے کہ نئی سیکھی ہوئی چیز کتنی سمجھ آئی اور حاصل کردہ معلومات کتنی یاد ہے یہ جانچنے کے لئے فلیش کارڈز یا باب کے آخر میں دیئے گئے سوالات کی مدد سے خود کا امتحان لینا۔

جریدے کے مطابق سینکڑوں تجربات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اس طریقے کے استعمال سے چیزوں کو سمجھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ اس طریقے کو استعمال کرنے کے لئے نئی چیز سیکھتے وقت مثال کے طور پر کلاس کے دوران نوٹس لیتے وقت صفحہ کے ایک طرف ایک کالم بنا کر اس میں خاص خاص نکات اور الفاظ لکھے جا سکتے ہیں اور بعد میں بغیر نوٹس کو دیکھے ان اہم نکات اور الفاظ سے متعلق سولات کے جواب دیئے جاسکتے ہیں۔

بچوں سے لے کر بڑوں تک مختلف مضامین میں اس طریقے کی افادیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ یہ طریقہ یادداشت میں خرابی کے مرض الزائمرز کے مریضوں کو بھی چیزیں یاد رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

دوسرے کارآمد طریقے کے مطابق کم وقت میں رٹنے کی بجائے نئی سیکھی جانے والی چیز اور معلومات کو زیادہ عرصے پر تقسیم کرنے سے سیکھنے کا عمل زیادہ موثر ہو جاتا ہے۔ معلومات کو ذہن نشین کرنے کے لئے ایک ہی باری میں بار بار دہرانے سے بہتر ہے کہ دہرانے کے سیشنز کے بیچ دورانیہ بڑھا دیا جائے۔

نئی سیکھی جانے والی چیز اور معلومات کو دہرانے کے سیشنز کے بیچ جتنے زیادہ دن کا وقفہ ہو گا یہ عمل اتنا ہی موثر ہو گا۔ یہ طریقہ بچوں سے لے کر بڑوں تک مختلف مضامین سیکھنے اور یاد رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے اس موضوع پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ’کونپل‘ کی روح ِرواں اور ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں بچوں کے شعبے کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ مہناز نے کہا کہ، ’کسی بھی چیز کو سیکھنے میں سب سے اہم آمادگی ہوتی ہے۔‘

ڈاکٹر صاحبہ نے کہا کہ پہلے تدریس کا عمل استاد کے حساب سے ڈیزائن کیا جاتا تھا لیکن اب اسے طالب علم کے حساب سے ترتیب دیا جاتا ہے یعنی کہ طالب علم کیا، کتنا اور کیسے سیکھنا چاہتا ہے اور اس عمل میں استاد صرف رہنما کا کردار ادا کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پڑھتے وقت ایک ساتھ نئی سیکھی جانے والی چیزوں کا انبار نہیں لگانا چاہئے بلکہ ایک وقت میں چند نکات پہ ہی کام کرنا چاہئے انھوں نے مزید کہا کہ سیکھنے کے عمل میں ماحول بہت اہم ہوتا ہے اس لئے پڑھتے وقت ریڈیو اور ٹی وی جیسی دھیان بٹانے والی چیزوں سے دور رہنے سے معلومات بہتر طریقے سے ذہن نشین ہو تی ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG