رسائی کے لنکس

پہلے پورے شہر سے 80 لاکھ روپے کابھتہ جمع ہوتا تھا۔۔ اب صرف ایک علاقے سے ایک کروڑ روپے بھتہ جاتا ہے۔ تمام جماعتوں کو کراچی آپریشن پر تحفظات ہیں، شہر بھرکے لئے صرف 12 سے 13 ہزار پولیس اہلکار ہیں۔۔ہیومن رائٹس کمیشن کی ’فیکٹ فائنڈنگ‘ رپورٹ

جیسے جیسے رمضان اختتام کو پہنچ رہا ہے، کراچی میں بھتہ خوری بڑھتی جا رہی ہے اور خدشہ ہے کہ عید آتے آتے اس میں مزید تیزی آجائے گی۔

پہلے پورے شہر سے 80 لاکھ روپے کا بھتہ جمع ہوتا تھا۔۔ اب صرف ایک علاقے سے ایک کروڑ روپے بھتہ جاتا ہے۔

حد تو یہ ہے کہ جو تاجر یا کاروباری افراد پہلے بھتہ خوری کی شکایات کرتے نظر آتے تھے، اب وہی بھتہ خوری کو ’کاروباری اخراجات‘ تصور کرنے لگے ہیں۔۔۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی شکایات پر کوئی کان دھرنے والا نہیں، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ اس بھتہ خوری میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے عسکری ونگ ملوث ہیں۔

بھتہ خوری سے متعلق مذکورہ حقائق ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی پیر کے روز جاری کردہ ’فیکٹ فائنڈنگ‘ رپورٹ میں بیان کئے گئے ہیں۔

ادارے کے جنرل سیکریٹری، آئی اے رحمٰن نے کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں مزید ’حقائق‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شہر قائد میں قتل اور اغوا کی وارداتیں بڑھتی جا رہی ہیں جنہیں دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ جیسے شہر میں حکومتی رٹ موجود ہی نہیں۔

پریس کانفرنس کے موقع پر ادارے کی چیئرپرسن زہرہ یوسف، اسد اقبال اور دیگر عہدیدارے بھی موجود تھے۔ آئی اے رحمٰن کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو کراچی آپریشن پر تحفظات ہیں جبکہ شہر میں انتہا پسندی کا خطرہ بھی منڈ لارہا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پا کستان کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی کراچی آپریشن کے حوالے سے تیار کی گئی رپورٹ کے حوالے سے بتاتے ہوئے آئی اے رحمٰن کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی میں پولیس اور رینجرز کے خلاف بھی بہت سی شکایات ملی ہیں۔ ان شکایات کی بھی تحقیقات کی جانی چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کے لئے صرف 26ہزار پولیس اہلکار موجود ہیں اور ان میں سے نصب وی آئی پیز کی حفاظت پر مامور ہیں۔ اس تناسب سے ایک پولیس اہلکار 1525 شہریوں کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ سنہ 2012 میں ایک سو اٹھارہ، اس سے اگلے سال 194پولیس مقابلے رپورٹ ہوئے۔ لیکن، رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں ہی 372 پولیس مقابلے ہوئے۔

ان کے بقول، کسی بھی سیاسی جماعت نے کراچی آپریشن پر اطمینان کا اظہار نہیں کیا۔ آپریشن کے دوران، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی مارے گئے اس لئے پولیس خوف کا شکار ہے، جبکہ اس بدامنی کی وجہ حکام کا بدعنوان ہونا ہے۔

XS
SM
MD
LG