رسائی کے لنکس

قیدیوں کی پھانسی پر عملدرآمد روکنے کا مطالبہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایچ آر سی پی نے ایک بیان میں کہا کہ سزائے موت کے منتظر قیدیوں نے رابطہ کر کے تنظیم کو بتایا ہے کہ موجودہ حکومتِ نے ایک بار پھر بعض قیدیوں کی سزا پر تعمیل کے احکامات جاری کرنے شروع کر دیے ہیں۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک بڑی تنظیم نے حکومت سے قیدیوں کی سزائے موت پر تعمیل روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے جمعرات کو جاری کردہ اپنے بیان میں انکشاف کیا ہے کہ سزائے موت کے منتظر متعدد قیدیوں نے رابطہ کر کے تنظیم کو بتایا ہے کہ موجودہ حکومت نے ایک بار پھر بعض قیدیوں کی سزا پر تعمیل کے احکامات جاری اور تاریخیں طے کرنا شروع کر دی ہیں۔

ایچ آر سی پی کی چیئرپرسن زہرہ یوسف (فائل فوٹو(

ایچ آر سی پی کی چیئرپرسن زہرہ یوسف (فائل فوٹو(

ایچ آرسی پی نے پنجاب کی مختلف جیلوں بالخصوص بہاوالپور جیل میں قیدیوں کی سزائے موت پر تعمیل کے ان اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

’’ایک ایسی حکومت جس نے کئی سال سے قیدیوں کو پھانسی پر لٹکانے کا عمل عارضی طور پر معطل کر رکھا ہے اچانک پالیسی تبدیل کر دینا ناقابل فہم ہے۔‘‘

ملک کی جیلوں میں سزائے موت پانے والے 8,000 سے زائد لوگ سزاؤں پرعمل درآمد کے منتظر ہیں، مگر 2008ء کے بعد سے اب تک ان میں سے کسی شخص کوبھی پھانسی پر نہیں چڑھایا گیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے ماسوائے دہشت گردی اور ریاست مخالف جرائم میں ملوث مجرمان کے تمام قیدیوں کی پھانسی پر عملدرآمد معطل کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔
XS
SM
MD
LG